اعجازہے کسی کا یا گردش زمانہ
ٹوٹا ہے ایشیا میں سحر فرنگیانہ
تعمیر آشیاں سے میں نے یہ راز پایا
اہل نوا کے حق میں بجلی ہے آشیانہ
یہ بندگی خدائی وہ بندگی گدائی
یا بندۂ خدا بن یا بندۂ زمانہ
غافل نہ ہو خودی سے کر اپنی پاسبانی
شاید کسی حرم کا تو بھی ہے آستانہ
اے لا الٰہ کے وارث باقی نہیں ہے تجھ میں
گفتار دلبرانہ کردار قاہرانہ
تیری نگاہ سے دل سینوں میں کانپتے تھے
کھویا گیا ہے تیرا جذب قلندرانہ
رازحرم سے شاید اقبال باخبر ہے
ہیں اس کی گفتگو کے انداز محرمانہ
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں