اپنی پسند کی شاعری تلاش کریں

جمعہ، 31 جولائی، 2026

دنیا میں پادشہ ہے سو ہے وہ بھی آدمی ۔ نظیر اکبر آبادی کی نظم

دنیا میں پادشہ ہے سو ہے وہ بھی آدمی

اور مفلس و گدا ہے سو ہے وہ بھی آدمی


زردار بے نوا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

نعمت جو کھا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی


ٹکڑے چبا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

ابدال، قطب و غوث، ولی آدمی ہوئے


منکر بھی آدمی ہوئے اور کفر کے بھرے

کیا کیا کرشمے کشف و کرامات کے لیے


حتٰی کہ اپنے زہد و ریاضت کے زور سے

خالق سے جا ملا ہے سو ہے وہ بھی آدمی


فرعون نے کیا تھا جو دعویٰ خدائی کا

شداد بھی بہشت بنا کر ہوا خدا


نمرود بھی خدا ہی کہاتا تھا برملا

یہ بات ہے سمجھنے کی آگے کہوں میں کیا


یاں تک جو ہو چکا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

کل آدمی کا حسن و قبح میں ہے یاں ظہور


شیطاں بھی آدمی ہے جو کرتا ہے مکر و زور

اور ہادی رہنما ہے سو ہے وہ بھی آدمی


مسجد بھی آدمی نے بنائی ہے یاں میاں

بنتے ہیں آدمی ہی امام اور خطبہ خواں


پڑھتے ہیں آدمی ہی قرآن اور نمازیاں

اور آدمی ہی ان کی چراتے ہیں جوتیاں


جو ان کو تاڑتا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

یاں آدمی پہ جان کو وارے ہے آدمی


اور آدمی پہ تیغ کو مارے ہے آدمی

پگڑی بھی آدمی کی اتارے ہے آدمی


چلا کے آدمی کو پکارے ہے آدمی

اور سن کے دوڑتا ہے سو ہے وہ بھی آدمی


چلتا ہے آدمی ہی مسافر ہو لے کے مال

اور آدمی ہی مارے ہے پھانسی گلے میں ڈال


یاں آدمی ہی صید ہے اور آدمی ہی جال

سچا بھی آدمی ہی نکلتا ہے میرے لال


اور جھوٹ کا بھرا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

یاں آدمی ہی شادی ہے اور آدمی بیاہ


قاضی وکیل آدمی اور آدمی گواہ

تاشے بجاتے آدمی چلتے ہیں خواہ مخواہ


دوڑے ہیں آدمی ہی تو مشعل جلا کے راہ

اور بیاہنے چڑھا ہے سو ہے وہ بھی آدمی


یاں آدمی نقیب ہو بولے ہے بار بار

اور آدمی ہی پیادے ہیں اور آدمی سوار


حقہ صراحی جوتیاں دوڑیں بغل میں مار

کاندھے پہ رکھ کے پالکی ہیں دوڑتے کہار


اور اس میں جو پڑا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

بیٹھے ہیں آدمی ہی دکانیں لگا لگا


اور آدمی ہی پھرتے ہیں رکھ سر پہ خونچا

کہتا ہے کوئی لو کوئی کہتا ہے لا رے لا


کس کس طرح کی بیچیں ہیں چیزیں بنا بنا

اور مول لے رہا ہے سو ہے وہ آدمی


طبلے مجیرے دائرے سارنگیاں بجا

گاتے ہیں آدمی ہی ہر اک طرح جا بجا


رنڈی بھی آدمی ہی نچاتے ہیں گت لگا

اور آدمی ہی ناچے ہیں اور دیکھ پھر مزا


جو ناچ دیکھتا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

یاں آدمی ہی لعل و جواہر میں بے بہا


اور آدمی ہی خاک سے بد تر ہے ہو گیا

کالا بھی آدمی ہے کہ الٹا ہے جوں توا


گورا بھی آدمی ہے کہ ٹکڑا ہے چاند سا

بد شکل بد نما ہے سو ہے وہ بھی آدمی


اک آدمی ہیں جن کے یہ کچھ زرق برق ہیں

روپے کے جن کے پاؤں ہیں سونے کے فرق ہیں


جھمکے تمام غرب سے لے تا بہ شرق ہیں

کم خواب تاش شال دو شالوں میں غرق ہیں


اور چیتھڑوں لگا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

حیراں ہوں یارو دیکھو تو کیا یہ سوانگ ہے


اور آدمی ہی چور ہے اور آپی تھانگ ہے

ہے چھینا جھپٹی اور بانگ تانگ ہے


دیکھا تو آدمی ہی یہاں مثل رانگ ہے

فولاد سے گڑھا ہے سو ہے وہ بھی آدمی


مرنے میں آدمی ہی کفن کرتے ہیں تیار

نہلا دھلا اٹھاتے ہیں کاندھے پہ کر سوار


کلمہ بھی پڑھتے جاتے ہیں روتے ہیں زارزار

سب آدمی ہی کرتے ہیں مردے کے کاروبار


اور وہ جو مر گیا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

اشراف اور کمینے سے لے شاہ تا وزیر


یہ آدمی ہی کرتے ہیں سب کار دل پذیر

یاں آدمی مرید ہے اور آدمی ہی پیر


اچھا بھی آدمی ہی کہاتا ہے اے نظیر

اور سب میں جو برا ہے سو ہے وہ بھی آدمی 

منگل، 28 جولائی، 2026

سنا ہے لوگ اسے انکھ بھر کے دیکھتے ہیں ۔ احمد فراز کی خوبسورت غزل


سنا ہے لوگ اسے انکھ بھر کے دیکھتے ہیں

سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں


سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے

سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں


سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز اس کی

سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں


سنا ہے اس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف

سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں


سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں

یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں


سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے

ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں


سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں

سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں


سنا ہے حشر ہیں اس کی غزال سی آنکھیں

سنا ہے اس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں


سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکلیں اس کی

سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں


سنا ہے اس کی سیہ چشمگی قیامت ہے

سو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں


سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں

سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں


سنا ہے آئنہ تمثال ہے جبیں اس کی

جو سادہ دل ہیں اسے بن سنور کے دیکھتے ہیں


سنا ہے جب سے حمائل ہیں اس کی گردن میں

مزاج اور ہی لعل و گہر کے دیکھتے ہیں


سنا ہے چشم تصور سے دشت امکاں میں

پلنگ زاویے اس کی کمر کے دیکھتے ہیں


سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے

کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں


وہ سرو قد ہے مگر بے گل مراد نہیں

کہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں


بس اک نگاہ سے لٹتا ہے قافلہ دل کا

سو رہروان تمنا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں


سنا ہے اس کے شبستاں سے متصل ہے بہشت

مکیں ادھر کے بھی جلوے ادھر کے دیکھتے ہیں


رکے تو گردشیں اس کا طواف کرتی ہیں

چلے تو اس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں


کسے نصیب کہ بے پیرہن اسے دیکھے

کبھی کبھی در و دیوار گھر کے دیکھتے ہیں


کہانیاں ہی سہی سب مبالغے ہی سہی

اگر وہ خواب ہے تعبیر کر کے دیکھتے ہیں


اب اس کے شہر میں ٹھہریں کہ کوچ کر جائیں

فرازؔ آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں 

کچھ اس ادا سے آج وہ پہلو نشیں رہے ۔ جگر مراد آبادی کی غزل

 کچھ اس ادا سے آج وہ پہلو نشیں رہے

جب تک ہمارے پاس رہے ہم نہیں رہے


ایمان و کفر اور نہ دنیا و دیں رہے

اے عشق شاد باش کہ تنہا ہمیں رہے


عالم جب ایک حال پہ قائم نہیں رہے

کیا خاک اعتبار نگاہ یقیں رہے


میری زباں پہ شکوہ درد آفریں رہے

شاید مرے حواس ٹھکانے نہیں رہے


جب تک الٰہی جسم میں جان حزیں رہے

نظریں مری جوان رہیں دل حسیں رہے


یارب کسی کے راز محبت کی خیر ہو

دست جنوں رہے نہ رہے آستیں رہے


تا چند جوش عشق میں دل کی حفاظتیں

میری بلا سے اب وہ جنونی کہیں رہے


جا اور کوئی ضبط کی دنیا تلاش کر

اے عشق ہم تو اب ترے قابل نہیں رہے


مجھ کو نہیں قبول دو عالم کی وسعتیں

قسمت میں کوئے یار کی دو گز زمیں رہے


اے عشق نالہ کش تری غیرت کو کیا ہوا

ہے ہے عرق عرق وہ تن نازنیں رہے


درد و غم فراق کے یہ سخت مرحلے

حیراں ہوں میں کہ پھر بھی تم اتنے حسیں رہے


اللہ رے چشم یار کی معجز بیانیاں

ہر اک کو ہے گماں کہ مخاطب ہمیں رہے


ظالم اٹھا تو پردۂ وہم و گمان و فکر

کیا سامنے وہ مرحلہ ہائے یقیں رہے


ذات و صفات حسن کا عالم نظر میں ہے

محدود سجدہ کیا مرا ذوق جبیں رہے


کس درد سے کسی نے کہا آج بزم میں

اچھا یہ ہے وہ ننگ محبت یہیں رہے


سر دادگان عشق و محبت کی کیا کمی

قاتل کی تیغ تیز خدا کی زمیں رہے


اس عشق کی تلافئ مافات دیکھنا

رونے کی حسرتیں ہیں جب آنسو نہیں رہے

اتوار، 26 جولائی، 2026

اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو ۔ قتیل شفائی کی خوبصورت غزل شاعری

اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو

میں ہوں تیرا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو


میں جو کانٹا ہوں تو چل مجھ سے بچا کر دامن

میں ہوں گر پھول تو جوڑے میں سجا لے مجھ کو


ترک الفت کی قسم بھی کوئی ہوتی ہے قسم

تو کبھی یاد تو کر بھولنے والے مجھ کو


مجھ سے تو پوچھنے آیا ہے وفا کے معنی

یہ تری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو


میں سمندر بھی ہوں موتی بھی ہوں غوطہ زن بھی

کوئی بھی نام مرا لے کے بلا لے مجھ کو


تو نے دیکھا نہیں آئینے سے آگے کچھ بھی

خود پرستی میں کہیں تو نہ گنوا لے مجھ کو


باندھ کر سنگ وفا کر دیا تو نے غرقاب

کون ایسا ہے جو اب ڈھونڈ نکالے مجھ کو


خود کو میں بانٹ نہ ڈالوں کہیں دامن دامن

کر دیا تو نے اگر میرے حوالے مجھ کو


میں کھلے در کے کسی گھر کا ہوں ساماں پیارے

تو دبے پاؤں کبھی آ کے چرا لے مجھ کو


کل کی بات اور ہے میں اب سا رہوں یا نہ رہوں

جتنا جی چاہے ترا آج ستا لے مجھ کو


بادہ پھر بادہ ہے میں زہر بھی پی جاؤں قتیلؔ

شرط یہ ہے کوئی بانہوں میں سنبھالے مجھ کو

گرمیءِ ءِحسرت ناکام سے جل جاتے ہیں ۔ قتیل شفائی کی غزل

گرمیءِ ءِحسرت ناکام سے جل جاتے ہیں

ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں


شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لیے

ہم اسی آگ میں گمنام سے جل جاتے ہیں


بچ نکلتے ہیں اگر آتش سیال سے ہم

شعلۂ عارض گلفام سے جل جاتے ہیں


خود نمائی تو نہیں شیوۂ ارباب وفا

جن کو جلنا ہو وہ آرام سے جل جاتے ہیں


ربط باہم پہ ہمیں کیا نہ کہیں گے دشمن

آشنا جب ترے پیغام سے جل جاتے ہیں


جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ

جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں 

اتوار، 4 مئی، 2025

مرزا غالب کی غزل ۔ ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے ۔ اردو شاعری

ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے

تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے


نہ شعلہ میں یہ کرشمہ نہ برق میں یہ ادا

کوئی بتاؤ کہ وہ شوخ تند خو کیا ہے


یہ رشک ہے کہ وہ ہوتا ہے ہم سخن تم سے

وگرنہ خوف بد آموزی عدو کیا ہے


چپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہن

ہمارے جیب کو اب حاجت رفو کیا ہے


جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہوگا

کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے


رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل

جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے


وہ چیز جس کے لیے ہم کو ہو بہشت عزیز

سوائے بادۂ گلفام مشک بو کیا ہے


پیوں شراب اگر خم بھی دیکھ لوں دو چار

یہ شیشہ و قدح و کوزہ و سبو کیا ہے


رہی نہ طاقت گفتار اور اگر ہو بھی

تو کس امید پہ کہیے کہ آرزو کیا ہے


ہوا ہے شہہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا

وگرنہ شہر میں غالبؔ کی آبرو کیا ہے

 

ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے ۔ نظیر اکبر آبادی کی غزل شاعری

ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے

ڈاکہ، تو نہیں ڈالا، چوری، تو نہیں کی ہے​

نا تجربہ کاری سے واعظ کی یہ باتیں ہیں

اس رنگ کو کیا جانے، پوچھو تو کبھی پی ہے؟​

اس مے سے نہیں مطلب، دل جس سے ہے بیگانہ

مقصود ہے اس مے سے دل ہی میں جو کھنچتی ہے​

ہر ذرہ چمکتا ہے انوارِ الٰہی سے

ہر سانس یہ کہتی ہے ہم ہیں تو خدا بھی ہے​

سورج میں لگے دھبہ فطرت کے کرشمے ہیں

بت ہم کو کہیں کافر، اللہ کی مرضی ہے​ 

نظیر اکبر آبادی