اپنی پسند کی شاعری تلاش کریں

shayari urdu ghazal لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
shayari urdu ghazal لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 11 ستمبر، 2026

بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں تو کس سے کہوں ۔ بہادر شاہ ظفر کی غزل شاعری

بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں تو کس سے کہوں

سنے ہے کون مصیبت کہوں تو کس سے کہوں 


جو تو ہو صاف تو کچھ میں بھی صاف تجھ سے کہوں

ترے ہے دل میں کدورت کہوں تو کس سے کہوں


نہ کوہ کن ہے نہ مجنوں کہ تھے مرے ہمدرد

میں اپنا درد محبت کہوں تو کس سے کہوں


دل اس کو آپ دیا آپ ہی پشیماں ہوں

کہ سچ ہے اپنی ندامت کہوں تو کس سے کہوں


کہوں میں جس سے اسے ہووے سنتے ہی وحشت

پھر اپنا قصۂ وحشت کہوں تو کس سے کہوں


رہا ہے تو ہی تو غم خوار اے دل غمگیں

ترے سوا غم فرقت کہوں تو کس سے کہوں


جو دوست ہو تو کہوں تجھ سے دوستی کی بات

تجھے تو مجھ سے عداوت کہوں تو کس سے کہوں


نہ مجھ کو کہنے کی طاقت کہوں تو کیا احوال

نہ اس کو سننے کی فرصت کہوں تو کس سے کہوں


کسی کو دیکھتا اتنا نہیں حقیقت میں

ظفر میں اپنی حقیقت کہوں تو کس سے کہوں