اپنی پسند کی شاعری تلاش کریں

ہفتہ، 19 ستمبر، 2026

غم ہے یا خوشی ہے تو ۔ ناصر کاظمی کی اردو غزل شاعری



غم ہے یا خوشی ہے تو
میری زندگی ہے تو

آفتوں کے دور میں
چین کی گھڑی ہے تو

میری رات کا چراغ
میری نیند بھی ہے تو

میں خزاں کی شام ہوں
رُت بہار کی ہے تو

دوستوں کے درمیاں
وجہِ دوستی ہے تو

میری ساری عمر میں
ایک ہی کمی ہے تو

میں تو وہ نہیں رہا
ہاں مگر وہی ہے تو

ناصر اس دیار میں

کتنا اجنبی ہے توناصر کاظمی 

دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی ۔ ناصر کاظمی کی غزل شاعری

 دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی

کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی


کچھ تو نازک مزاج ہیں ہم بھی

اور یہ چوٹ بھی نئی ہے ابھی


شور برپا ہے خانۂ دل میں

کوئی دیوار سی گری ہے ابھی


بھری دنیا میں جی نہیں لگتا

جانے کس چیز کی کمی ہے ابھی


تو شریک سخن نہیں ہے تو کیا

ہم سخن تیری خامشی ہے ابھی


یاد کے بے نشاں جزیروں سے

تیری آواز آ رہی ہے ابھی


شہر کی بے چراغ گلیوں میں

زندگی تجھ کو ڈھونڈتی ہے ابھی


سو گئے لوگ اس حویلی کے

ایک کھڑکی مگر کھلی ہے ابھی


تم تو یارو ابھی سے اٹھ بیٹھے

شہر میں رات جاگتی ہے ابھی


وقت اچھا بھی آئے گا ناصر

غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی


ناصر کاظمی  کی خوبصورت غزل شاعری

کیونکر نہ خاکسار رہیں اہل کیں سے دور ۔ بہادر شاہ ظفر کی غزل شاعری

کیونکر نہ خاکسار رہیں اہل کیں سے دور

دیکھو زمیں فلک سے فلک ہے زمیں سے دور


پروانہ وصل شمع پہ دیتا ہے اپنی جاں

کیونکر رہے دل اس کے رخ آتشیں سے دور


مضمون وصل و ہجر جو نامہ میں ہے رقم

ہے حرف بھی کہیں سے ملے اور کہیں سے دور


گو تیر بے گماں ہے مرے پاس پر ابھی

جائے نکل کے سینۂ چرخ بریں سے دور


وہ کون ہے کہ جاتے نہیں آپ جس کے پاس

لیکن ہمیشہ بھاگتے ہو تم ہمیں سے دور


حیران ہوں کہ اس کے مقابل ہو آئینہ

جو پر غرور کھنچتا ہے ماہ مبیں سے دور


یاں تک عدو کا پاس ہے ان کو کہ بزم میں

وہ بیٹھتے بھی ہیں تو مرے ہم نشیں سے دور


منظور ہو جو دید تجھے دل کی آنکھ سے

پہنچے تری نظر نگہ دور بیں سے دور


دنیائے دوں کی دے نہ محبت خدا ظفر

انساں کو پھینک دے ہے یہ ایمان و دیں سے دور

 

یا مجھے افسر شاہا نہ بنایا ہوتا ۔ بہادرشاہ ظفر کی غزل شاعری

یا مجھے افسر شاہانہ بنایا ہوتا

یا مرا تاج گدایانہ بنایا ہوتا


اپنا دیوانہ بنایا مجھے ہوتا تو نے

کیوں خرد مند بنایا نہ بنایا ہوتا


خاکساری کے لیے گرچہ بنایا تھا مجھے

کاش خاک در جانانہ بنایا ہوتا


نشۂ عشق کا گر ظرف دیا تھا مجھ کو

عمر کا تنگ نہ پیمانہ بنایا ہوتا


دل صد چاک بنایا تو بلا سے لیکن

زلف مشکیں کا ترے شانہ بنایا ہوتا


صوفیوں کے جو نہ تھا لائق صحبت تو مجھے

قابل جلسۂ رندانہ بنایا ہوتا


تھا جلانا ہی اگر دورئ ساقی سے مجھے

تو چراغ در مے خانہ بنایا ہوتا


شعلۂ حسن چمن میں نہ دکھایا اس نے

ورنہ بلبل کو بھی پروانہ بنایا ہوتا


روز معمورۂ دنیا میں خرابی ہے ظفر

ایسی بستی کو تو ویرانہ بنایا ہوتا

 

جمعہ، 11 ستمبر، 2026

بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں تو کس سے کہوں ۔ بہادر شاہ ظفر کی غزل شاعری

بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں تو کس سے کہوں

سنے ہے کون مصیبت کہوں تو کس سے کہوں 


جو تو ہو صاف تو کچھ میں بھی صاف تجھ سے کہوں

ترے ہے دل میں کدورت کہوں تو کس سے کہوں


نہ کوہ کن ہے نہ مجنوں کہ تھے مرے ہمدرد

میں اپنا درد محبت کہوں تو کس سے کہوں


دل اس کو آپ دیا آپ ہی پشیماں ہوں

کہ سچ ہے اپنی ندامت کہوں تو کس سے کہوں


کہوں میں جس سے اسے ہووے سنتے ہی وحشت

پھر اپنا قصۂ وحشت کہوں تو کس سے کہوں


رہا ہے تو ہی تو غم خوار اے دل غمگیں

ترے سوا غم فرقت کہوں تو کس سے کہوں


جو دوست ہو تو کہوں تجھ سے دوستی کی بات

تجھے تو مجھ سے عداوت کہوں تو کس سے کہوں


نہ مجھ کو کہنے کی طاقت کہوں تو کیا احوال

نہ اس کو سننے کی فرصت کہوں تو کس سے کہوں


کسی کو دیکھتا اتنا نہیں حقیقت میں

ظفر میں اپنی حقیقت کہوں تو کس سے کہوں


جمعرات، 10 ستمبر، 2026

لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں۔ بہادر شاہ ظفر کی غزل شاعری

لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں

کس کی بنی ہے عالم ناپائیدار میں


ان حسرتوں سے کہہ دو کہیں اور جا بسیں

اتنی جگہ کہاں ہے دل داغدار میں


کانٹوں کو مت نکال چمن سے او باغباں

یہ بھی گلوں کے ساتھ پلے ہیں بہار میں


بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ

قسمت میں قید لکھی تھی فصل بہار میں


کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے

دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں

 

بہادر شاہ ظفر کی بہترین غزلیں


لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں

بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں تو کس سے کہوں

یا مجھے افسر شاہا نہ بنایا ہوتا

کیونکر نہ خاکسار رہیں اہل کیں سے دور


بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی

جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی


لے گیا چھین کے کون آج ترا صبر و قرار

بے قراری تجھے اے دل کبھی ایسی تو نہ تھی


اس کی آنکھوں نے خدا جانے کیا کیا جادو

کہ طبیعت مری مائل کبھی ایسی تو نہ تھی


عکس رخسار نے کس کے ہے تجھے چمکایا

تاب تجھ میں مہ کامل کبھی ایسی تو نہ تھی


اب کی جو راہ محبت میں اٹھائی تکلیف

سخت ہوتی ہمیں منزل کبھی ایسی تو نہ تھی


پائے کوباں کوئی زنداں میں نیا ہے مجنوں

آتی آواز سلاسل کبھی ایسی تو نہ تھی


نگہ یار کو اب کیوں ہے تغافل اے دل

وہ ترے حال سے غافل کبھی ایسی تو نہ تھی


چشم قاتل مری دشمن تھی ہمیشہ لیکن

جیسی اب ہو گئی قاتل کبھی ایسی تو نہ تھی


کیا سبب تو جو بگڑتا ہے ظفر سے ہر بار

خو تری حور شمائل کبھی ایسی تو نہ تھی

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


بدھ، 2 ستمبر، 2026

دونوں جہان تیری محبت میں وار کے ۔ فیض احمد فیض کی غزل شاعری

دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے
وہ جا رہا ہے کوئی شب غم گزار کے

ویراں ہے مے کدہ خم و ساغر اداس ہیں
تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے

اک فرصت گناہ ملی وہ بھی چار دن
دیکھے ہیں ہم نے حوصلے پروردگار کے

دنیا نے تیری یاد سے بیگانہ کر دیا
تجھ سے بھی دل فریب ہیں غم روزگار کے
بھولے سے مسکرا تو دیے تھے وہ آج فیض
مت پوچھ ولولے دل ناکردہ کار کے