اپنی پسند کی شاعری تلاش کریں

buhadur shah zafar لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
buhadur shah zafar لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 11 ستمبر، 2026

بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں تو کس سے کہوں ۔ بہادر شاہ ظفر کی غزل شاعری

بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں تو کس سے کہوں

سنے ہے کون مصیبت کہوں تو کس سے کہوں 


جو تو ہو صاف تو کچھ میں بھی صاف تجھ سے کہوں

ترے ہے دل میں کدورت کہوں تو کس سے کہوں


نہ کوہ کن ہے نہ مجنوں کہ تھے مرے ہمدرد

میں اپنا درد محبت کہوں تو کس سے کہوں


دل اس کو آپ دیا آپ ہی پشیماں ہوں

کہ سچ ہے اپنی ندامت کہوں تو کس سے کہوں


کہوں میں جس سے اسے ہووے سنتے ہی وحشت

پھر اپنا قصۂ وحشت کہوں تو کس سے کہوں


رہا ہے تو ہی تو غم خوار اے دل غمگیں

ترے سوا غم فرقت کہوں تو کس سے کہوں


جو دوست ہو تو کہوں تجھ سے دوستی کی بات

تجھے تو مجھ سے عداوت کہوں تو کس سے کہوں


نہ مجھ کو کہنے کی طاقت کہوں تو کیا احوال

نہ اس کو سننے کی فرصت کہوں تو کس سے کہوں


کسی کو دیکھتا اتنا نہیں حقیقت میں

ظفر میں اپنی حقیقت کہوں تو کس سے کہوں


جمعرات، 10 ستمبر، 2026

لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں۔ بہادر شاہ ظفر کی غزل شاعری

لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں

کس کی بنی ہے عالم ناپائیدار میں


ان حسرتوں سے کہہ دو کہیں اور جا بسیں

اتنی جگہ کہاں ہے دل داغدار میں


کانٹوں کو مت نکال چمن سے او باغباں

یہ بھی گلوں کے ساتھ پلے ہیں بہار میں


بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ

قسمت میں قید لکھی تھی فصل بہار میں


کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے

دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں

 

بہادر شاہ ظفر کی بہترین غزلیں


لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں

بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں تو کس سے کہوں

یا مجھے افسر شاہا نہ بنایا ہوتا

کیونکر نہ خاکسار رہیں اہل کیں سے دور


بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی

جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی


لے گیا چھین کے کون آج ترا صبر و قرار

بے قراری تجھے اے دل کبھی ایسی تو نہ تھی


اس کی آنکھوں نے خدا جانے کیا کیا جادو

کہ طبیعت مری مائل کبھی ایسی تو نہ تھی


عکس رخسار نے کس کے ہے تجھے چمکایا

تاب تجھ میں مہ کامل کبھی ایسی تو نہ تھی


اب کی جو راہ محبت میں اٹھائی تکلیف

سخت ہوتی ہمیں منزل کبھی ایسی تو نہ تھی


پائے کوباں کوئی زنداں میں نیا ہے مجنوں

آتی آواز سلاسل کبھی ایسی تو نہ تھی


نگہ یار کو اب کیوں ہے تغافل اے دل

وہ ترے حال سے غافل کبھی ایسی تو نہ تھی


چشم قاتل مری دشمن تھی ہمیشہ لیکن

جیسی اب ہو گئی قاتل کبھی ایسی تو نہ تھی


کیا سبب تو جو بگڑتا ہے ظفر سے ہر بار

خو تری حور شمائل کبھی ایسی تو نہ تھی

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔