اپنی پسند کی شاعری تلاش کریں

اتوار، 9 اگست، 2026

اوجھل سہی نِگاہ سے ڈوبا نہیں ہوں میں ۔ امجد اسلام امجد کی غزل ۔ اردو شاعری

 اوجھل سہی نِگاہ سے ڈوبا نہیں ہوں میں

اے رات ہوشیار کہ ہارا نہیں ہوں میں


دَرپیش صبح و شام یہی کَشمکش ہے اب

اُس کا بَنوں میں کیسے کہ اپنا نہیں ہوں میں


مجھ کو فرشتہ ہونے کا دعویٰ نہیں مگر

جِتنا بُرا سمجھتے ہو اُتنا نہیں ہوں میں


اِس طرح پھیر پھیر کہ باتیں نہ کیجیئے

لہجے کا رُخ سمجھتا ہوں بچہ نہیں ہوں میں


مُمکن نہیں ہے مجھ سے یہ طرزِ مُنافقت

دُنیا تیرے مزاج کا بَندہ نہیں ہوں میں


امجدؔ تھی بھیڑ ایسی کہ چلتے چلے گئے

گِرنے کا ایسا خوف تھا ٹِھہرا نہیں ہوں میں


امجد اسلام امجد کی غزل

کہاں آ کے رکنے تھے راستے کہاں موڑ تھا اسے بھول جا۔ امجد اسلام امجد کی غزل

کہاں آ کے رکنے تھے راستے کہاں موڑ تھا اسے بھول جا

وہ جو مل گیا اسے یاد رکھ جو نہیں ملا اسے بھول جا


وہ ترے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پہ برس گئیں

دل بے خبر مری بات سن اسے بھول جا اسے بھول جا


میں تو گم تھا تیرے ہی دھیان میں تری آس تیرے گمان میں

صبا کہہ گئی مرے کان میں مرے ساتھ آ اسے بھول جا


کسی آنکھ میں نہیں اشک غم ترے بعد کچھ بھی نہیں ہے کم

تجھے زندگی نے بھلا دیا تو بھی مسکرا اسے بھول جا


کہیں چاک جاں کا رفو نہیں کسی آستیں پہ لہو نہیں

کہ شہید راہ ملال کا نہیں خوں بہا اسے بھول جا


کیوں اٹا ہوا ہے غبار میں غم زندگی کے فشار میں

وہ جو درد تھا ترے بخت میں سو وہ ہو گیا اسے بھول جا


تجھے چاند بن کے ملا تھا جو ترے ساحلوں پہ کھلا تھا جو

وہ تھا ایک دریا وصال کا سو اتر گیا اسے بھول جا


امجد اسلام امجد کی خوبصورت غزل