شکن جب سے دیکھی ہے ان کی جبیں پر
عجب صدمہ ہے جان اندوہ گیں پر
نہ چھوٹے گی اب دخت زر ہم سے ساقی
کریں گے عمل تیری رائے زریں پر
یہ جانیں ہیں عشاق کی یا ہے افشاں
پڑی ہے جو اس گیسوئے عنبریں پر
عجب اس کی خوشبو ہے کچھ روح پرور
وہ کوشش جو تھی اس تن نازنیں پر
کچھ آئی تو ہے ترک مے پر طبیعت
نہ مچلے جو رنگینیٔ ساتگیں پر
نہ کر ناصحا ضبط غم کی نصیحت
کہ ہے صبر دشوار جان حزیں پر
بہت ہم نے ڈھونڈا مگر مثل تیرا
نہ پایا کہیں اور روئے زمیں پر
مرے گریۂ خوں کی سب لالہ کاری
نمودار ہے دامن آستیں پر
ہوئی اس میں اک گرمیٔ شوق پیدا
پڑی جو نظر اس رخ آتشیں پر
تماشائے خوباں سے اتنا تغافل
صد افسوس اس زہد خلوت نشیں پر
نثار اس پہ حسرت مری جان شیریں
تمسم جو ہے اس لب شکریں پر
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں