![]() |
| کافی ہے مرے دل کی تسلی کو یہی بات، شکیل بد ایونی کی غزل |
![]() |
| کافی ہے مرے دل کی تسلی کو یہی بات، شکیل بد ایونی کی غزل |
کتنا اجنبی ہے توناصر کاظمی
کیونکر نہ خاکسار رہیں اہل کیں سے دور
دیکھو زمیں فلک سے فلک ہے زمیں سے دور
پروانہ وصل شمع پہ دیتا ہے اپنی جاں
کیونکر رہے دل اس کے رخ آتشیں سے دور
مضمون وصل و ہجر جو نامہ میں ہے رقم
ہے حرف بھی کہیں سے ملے اور کہیں سے دور
گو تیر بے گماں ہے مرے پاس پر ابھی
جائے نکل کے سینۂ چرخ بریں سے دور
وہ کون ہے کہ جاتے نہیں آپ جس کے پاس
لیکن ہمیشہ بھاگتے ہو تم ہمیں سے دور
حیران ہوں کہ اس کے مقابل ہو آئینہ
جو پر غرور کھنچتا ہے ماہ مبیں سے دور
یاں تک عدو کا پاس ہے ان کو کہ بزم میں
وہ بیٹھتے بھی ہیں تو مرے ہم نشیں سے دور
منظور ہو جو دید تجھے دل کی آنکھ سے
پہنچے تری نظر نگہ دور بیں سے دور
دنیائے دوں کی دے نہ محبت خدا ظفر
انساں کو پھینک دے ہے یہ ایمان و دیں سے دور
یا مجھے افسر شاہانہ بنایا ہوتا
یا مرا تاج گدایانہ بنایا ہوتا
اپنا دیوانہ بنایا مجھے ہوتا تو نے
کیوں خرد مند بنایا نہ بنایا ہوتا
خاکساری کے لیے گرچہ بنایا تھا مجھے
کاش خاک در جانانہ بنایا ہوتا
نشۂ عشق کا گر ظرف دیا تھا مجھ کو
عمر کا تنگ نہ پیمانہ بنایا ہوتا
دل صد چاک بنایا تو بلا سے لیکن
زلف مشکیں کا ترے شانہ بنایا ہوتا
صوفیوں کے جو نہ تھا لائق صحبت تو مجھے
قابل جلسۂ رندانہ بنایا ہوتا
تھا جلانا ہی اگر دورئ ساقی سے مجھے
تو چراغ در مے خانہ بنایا ہوتا
شعلۂ حسن چمن میں نہ دکھایا اس نے
ورنہ بلبل کو بھی پروانہ بنایا ہوتا
روز معمورۂ دنیا میں خرابی ہے ظفر
ایسی بستی کو تو ویرانہ بنایا ہوتا
بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں تو کس سے کہوں
سنے ہے کون مصیبت کہوں تو کس سے کہوں
جو تو ہو صاف تو کچھ میں بھی صاف تجھ سے کہوں
ترے ہے دل میں کدورت کہوں تو کس سے کہوں
نہ کوہ کن ہے نہ مجنوں کہ تھے مرے ہمدرد
میں اپنا درد محبت کہوں تو کس سے کہوں
دل اس کو آپ دیا آپ ہی پشیماں ہوں
کہ سچ ہے اپنی ندامت کہوں تو کس سے کہوں
کہوں میں جس سے اسے ہووے سنتے ہی وحشت
پھر اپنا قصۂ وحشت کہوں تو کس سے کہوں
رہا ہے تو ہی تو غم خوار اے دل غمگیں
ترے سوا غم فرقت کہوں تو کس سے کہوں
جو دوست ہو تو کہوں تجھ سے دوستی کی بات
تجھے تو مجھ سے عداوت کہوں تو کس سے کہوں
نہ مجھ کو کہنے کی طاقت کہوں تو کیا احوال
نہ اس کو سننے کی فرصت کہوں تو کس سے کہوں
کسی کو دیکھتا اتنا نہیں حقیقت میں
ظفر میں اپنی حقیقت کہوں تو کس سے کہوں
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالم ناپائیدار میں
ان حسرتوں سے کہہ دو کہیں اور جا بسیں
اتنی جگہ کہاں ہے دل داغدار میں
کانٹوں کو مت نکال چمن سے او باغباں
یہ بھی گلوں کے ساتھ پلے ہیں بہار میں
بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ
قسمت میں قید لکھی تھی فصل بہار میں
کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں تو کس سے کہوں
یا مجھے افسر شاہا نہ بنایا ہوتا
کیونکر نہ خاکسار رہیں اہل کیں سے دور
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی
لے گیا چھین کے کون آج ترا صبر و قرار
بے قراری تجھے اے دل کبھی ایسی تو نہ تھی
اس کی آنکھوں نے خدا جانے کیا کیا جادو
کہ طبیعت مری مائل کبھی ایسی تو نہ تھی
عکس رخسار نے کس کے ہے تجھے چمکایا
تاب تجھ میں مہ کامل کبھی ایسی تو نہ تھی
اب کی جو راہ محبت میں اٹھائی تکلیف
سخت ہوتی ہمیں منزل کبھی ایسی تو نہ تھی
پائے کوباں کوئی زنداں میں نیا ہے مجنوں
آتی آواز سلاسل کبھی ایسی تو نہ تھی
نگہ یار کو اب کیوں ہے تغافل اے دل
وہ ترے حال سے غافل کبھی ایسی تو نہ تھی
چشم قاتل مری دشمن تھی ہمیشہ لیکن
جیسی اب ہو گئی قاتل کبھی ایسی تو نہ تھی
کیا سبب تو جو بگڑتا ہے ظفر سے ہر بار
خو تری حور شمائل کبھی ایسی تو نہ تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خرد نے مجھ کو عطا کی نظر حکیمانہ
سکھائی عشق نے مجھ کو حدیث رندانہ
نہ بادہ ہے نہ صراحی نہ دور پیمانہ
فقط نگاہ سے رنگیں ہے بزم جانانہ
مری نوائے پریشاں کو شاعری نہ سمجھ
کہ میں ہوں محرم راز درون مے خانہ
کلی کو دیکھ کہ ہے تشنۂ نسیم سحر
اسی میں ہے مرے دل کا تمام افسانہ
کوئی بتائے مجھے یہ غیاب ہے کہ حضور
سب آشنا ہیں یہاں ایک میں ہوں بیگانہ
فرنگ میں کوئی دن اور بھی ٹھہر جاؤں
مرے جنوں کو سنبھالے اگر یہ ویرانہ
مقام عقل سے آساں گزر گیا اقبال
مقام شوق میں کھویا گیا وہ فرزانہ
کہاں آ کے رکنے تھے راستے کہاں موڑ تھا اسے بھول جا
وہ جو مل گیا اسے یاد رکھ جو نہیں ملا اسے بھول جا
وہ ترے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پہ برس گئیں
دل بے خبر مری بات سن اسے بھول جا اسے بھول جا
میں تو گم تھا تیرے ہی دھیان میں تری آس تیرے گمان میں
صبا کہہ گئی مرے کان میں مرے ساتھ آ اسے بھول جا
کسی آنکھ میں نہیں اشک غم ترے بعد کچھ بھی نہیں ہے کم
تجھے زندگی نے بھلا دیا تو بھی مسکرا اسے بھول جا
کہیں چاک جاں کا رفو نہیں کسی آستیں پہ لہو نہیں
کہ شہید راہ ملال کا نہیں خوں بہا اسے بھول جا
کیوں اٹا ہوا ہے غبار میں غم زندگی کے فشار میں
وہ جو درد تھا ترے بخت میں سو وہ ہو گیا اسے بھول جا
تجھے چاند بن کے ملا تھا جو ترے ساحلوں پہ کھلا تھا جو
وہ تھا ایک دریا وصال کا سو اتر گیا اسے بھول جا
امجد اسلام امجد کی خوبصورت غزل