![]() |
| کافی ہے مرے دل کی تسلی کو یہی بات، شکیل بد ایونی کی غزل |
خوش ہوں کہ مرا حسن طلب کام تو آیا
خالی ہی سہی میری طرف کام تو آیا
کافی ہے مرے دل کی تسلی کو یہی بات
آپ آ نہ سکے آپ کا کام تو آیا
اپنوں نے نظر پھیری تو دل تو نے دیا ساتھ
دنیا میں کوئی دوست مرے کام تو آیا
وہ صبح کا احساس ہو یا میری کشش ہو
ڈوبا ہوا خورشید لبِ کام تو آیا
لوگ ان سے یہ کہتے ہیں کہ کتنے ہیں شکیلؔ آپ
اس حسن کے صدقے میں مرا کام تو آیا
