اپنی پسند کی شاعری تلاش کریں

urdu shayari لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
urdu shayari لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 28 جولائی، 2026

کچھ اس ادا سے آج وہ پہلو نشیں رہے ۔ جگر مراد آبادی کی غزل

 کچھ اس ادا سے آج وہ پہلو نشیں رہے

جب تک ہمارے پاس رہے ہم نہیں رہے


ایمان و کفر اور نہ دنیا و دیں رہے

اے عشق شاد باش کہ تنہا ہمیں رہے


عالم جب ایک حال پہ قائم نہیں رہے

کیا خاک اعتبار نگاہ یقیں رہے


میری زباں پہ شکوہ درد آفریں رہے

شاید مرے حواس ٹھکانے نہیں رہے


جب تک الٰہی جسم میں جان حزیں رہے

نظریں مری جوان رہیں دل حسیں رہے


یارب کسی کے راز محبت کی خیر ہو

دست جنوں رہے نہ رہے آستیں رہے


تا چند جوش عشق میں دل کی حفاظتیں

میری بلا سے اب وہ جنونی کہیں رہے


جا اور کوئی ضبط کی دنیا تلاش کر

اے عشق ہم تو اب ترے قابل نہیں رہے


مجھ کو نہیں قبول دو عالم کی وسعتیں

قسمت میں کوئے یار کی دو گز زمیں رہے


اے عشق نالہ کش تری غیرت کو کیا ہوا

ہے ہے عرق عرق وہ تن نازنیں رہے


درد و غم فراق کے یہ سخت مرحلے

حیراں ہوں میں کہ پھر بھی تم اتنے حسیں رہے


اللہ رے چشم یار کی معجز بیانیاں

ہر اک کو ہے گماں کہ مخاطب ہمیں رہے


ظالم اٹھا تو پردۂ وہم و گمان و فکر

کیا سامنے وہ مرحلہ ہائے یقیں رہے


ذات و صفات حسن کا عالم نظر میں ہے

محدود سجدہ کیا مرا ذوق جبیں رہے


کس درد سے کسی نے کہا آج بزم میں

اچھا یہ ہے وہ ننگ محبت یہیں رہے


سر دادگان عشق و محبت کی کیا کمی

قاتل کی تیغ تیز خدا کی زمیں رہے


اس عشق کی تلافئ مافات دیکھنا

رونے کی حسرتیں ہیں جب آنسو نہیں رہے

اتوار، 26 جولائی، 2026

اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو ۔ قتیل شفائی کی خوبصورت غزل شاعری

اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو

میں ہوں تیرا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو


میں جو کانٹا ہوں تو چل مجھ سے بچا کر دامن

میں ہوں گر پھول تو جوڑے میں سجا لے مجھ کو


ترک الفت کی قسم بھی کوئی ہوتی ہے قسم

تو کبھی یاد تو کر بھولنے والے مجھ کو


مجھ سے تو پوچھنے آیا ہے وفا کے معنی

یہ تری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو


میں سمندر بھی ہوں موتی بھی ہوں غوطہ زن بھی

کوئی بھی نام مرا لے کے بلا لے مجھ کو


تو نے دیکھا نہیں آئینے سے آگے کچھ بھی

خود پرستی میں کہیں تو نہ گنوا لے مجھ کو


باندھ کر سنگ وفا کر دیا تو نے غرقاب

کون ایسا ہے جو اب ڈھونڈ نکالے مجھ کو


خود کو میں بانٹ نہ ڈالوں کہیں دامن دامن

کر دیا تو نے اگر میرے حوالے مجھ کو


میں کھلے در کے کسی گھر کا ہوں ساماں پیارے

تو دبے پاؤں کبھی آ کے چرا لے مجھ کو


کل کی بات اور ہے میں اب سا رہوں یا نہ رہوں

جتنا جی چاہے ترا آج ستا لے مجھ کو


بادہ پھر بادہ ہے میں زہر بھی پی جاؤں قتیلؔ

شرط یہ ہے کوئی بانہوں میں سنبھالے مجھ کو