اپنی پسند کی شاعری تلاش کریں

urdu shayari لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
urdu shayari لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 19 ستمبر، 2026

غم ہے یا خوشی ہے تو ۔ ناصر کاظمی کی اردو غزل شاعری



غم ہے یا خوشی ہے تو
میری زندگی ہے تو

آفتوں کے دور میں
چین کی گھڑی ہے تو

میری رات کا چراغ
میری نیند بھی ہے تو

میں خزاں کی شام ہوں
رُت بہار کی ہے تو

دوستوں کے درمیاں
وجہِ دوستی ہے تو

میری ساری عمر میں
ایک ہی کمی ہے تو

میں تو وہ نہیں رہا
ہاں مگر وہی ہے تو

ناصر اس دیار میں

کتنا اجنبی ہے توناصر کاظمی 

کیونکر نہ خاکسار رہیں اہل کیں سے دور ۔ بہادر شاہ ظفر کی غزل شاعری

کیونکر نہ خاکسار رہیں اہل کیں سے دور

دیکھو زمیں فلک سے فلک ہے زمیں سے دور


پروانہ وصل شمع پہ دیتا ہے اپنی جاں

کیونکر رہے دل اس کے رخ آتشیں سے دور


مضمون وصل و ہجر جو نامہ میں ہے رقم

ہے حرف بھی کہیں سے ملے اور کہیں سے دور


گو تیر بے گماں ہے مرے پاس پر ابھی

جائے نکل کے سینۂ چرخ بریں سے دور


وہ کون ہے کہ جاتے نہیں آپ جس کے پاس

لیکن ہمیشہ بھاگتے ہو تم ہمیں سے دور


حیران ہوں کہ اس کے مقابل ہو آئینہ

جو پر غرور کھنچتا ہے ماہ مبیں سے دور


یاں تک عدو کا پاس ہے ان کو کہ بزم میں

وہ بیٹھتے بھی ہیں تو مرے ہم نشیں سے دور


منظور ہو جو دید تجھے دل کی آنکھ سے

پہنچے تری نظر نگہ دور بیں سے دور


دنیائے دوں کی دے نہ محبت خدا ظفر

انساں کو پھینک دے ہے یہ ایمان و دیں سے دور

 

یا مجھے افسر شاہا نہ بنایا ہوتا ۔ بہادرشاہ ظفر کی غزل شاعری

یا مجھے افسر شاہانہ بنایا ہوتا

یا مرا تاج گدایانہ بنایا ہوتا


اپنا دیوانہ بنایا مجھے ہوتا تو نے

کیوں خرد مند بنایا نہ بنایا ہوتا


خاکساری کے لیے گرچہ بنایا تھا مجھے

کاش خاک در جانانہ بنایا ہوتا


نشۂ عشق کا گر ظرف دیا تھا مجھ کو

عمر کا تنگ نہ پیمانہ بنایا ہوتا


دل صد چاک بنایا تو بلا سے لیکن

زلف مشکیں کا ترے شانہ بنایا ہوتا


صوفیوں کے جو نہ تھا لائق صحبت تو مجھے

قابل جلسۂ رندانہ بنایا ہوتا


تھا جلانا ہی اگر دورئ ساقی سے مجھے

تو چراغ در مے خانہ بنایا ہوتا


شعلۂ حسن چمن میں نہ دکھایا اس نے

ورنہ بلبل کو بھی پروانہ بنایا ہوتا


روز معمورۂ دنیا میں خرابی ہے ظفر

ایسی بستی کو تو ویرانہ بنایا ہوتا

 

جمعہ، 11 ستمبر، 2026

بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں تو کس سے کہوں ۔ بہادر شاہ ظفر کی غزل شاعری

بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں تو کس سے کہوں

سنے ہے کون مصیبت کہوں تو کس سے کہوں 


جو تو ہو صاف تو کچھ میں بھی صاف تجھ سے کہوں

ترے ہے دل میں کدورت کہوں تو کس سے کہوں


نہ کوہ کن ہے نہ مجنوں کہ تھے مرے ہمدرد

میں اپنا درد محبت کہوں تو کس سے کہوں


دل اس کو آپ دیا آپ ہی پشیماں ہوں

کہ سچ ہے اپنی ندامت کہوں تو کس سے کہوں


کہوں میں جس سے اسے ہووے سنتے ہی وحشت

پھر اپنا قصۂ وحشت کہوں تو کس سے کہوں


رہا ہے تو ہی تو غم خوار اے دل غمگیں

ترے سوا غم فرقت کہوں تو کس سے کہوں


جو دوست ہو تو کہوں تجھ سے دوستی کی بات

تجھے تو مجھ سے عداوت کہوں تو کس سے کہوں


نہ مجھ کو کہنے کی طاقت کہوں تو کیا احوال

نہ اس کو سننے کی فرصت کہوں تو کس سے کہوں


کسی کو دیکھتا اتنا نہیں حقیقت میں

ظفر میں اپنی حقیقت کہوں تو کس سے کہوں


جمعرات، 10 ستمبر، 2026

لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں۔ بہادر شاہ ظفر کی غزل شاعری

لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں

کس کی بنی ہے عالم ناپائیدار میں


ان حسرتوں سے کہہ دو کہیں اور جا بسیں

اتنی جگہ کہاں ہے دل داغدار میں


کانٹوں کو مت نکال چمن سے او باغباں

یہ بھی گلوں کے ساتھ پلے ہیں بہار میں


بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ

قسمت میں قید لکھی تھی فصل بہار میں


کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے

دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں

 

بہادر شاہ ظفر کی بہترین غزلیں


لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں

بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں تو کس سے کہوں

یا مجھے افسر شاہا نہ بنایا ہوتا

کیونکر نہ خاکسار رہیں اہل کیں سے دور


بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی

جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی


لے گیا چھین کے کون آج ترا صبر و قرار

بے قراری تجھے اے دل کبھی ایسی تو نہ تھی


اس کی آنکھوں نے خدا جانے کیا کیا جادو

کہ طبیعت مری مائل کبھی ایسی تو نہ تھی


عکس رخسار نے کس کے ہے تجھے چمکایا

تاب تجھ میں مہ کامل کبھی ایسی تو نہ تھی


اب کی جو راہ محبت میں اٹھائی تکلیف

سخت ہوتی ہمیں منزل کبھی ایسی تو نہ تھی


پائے کوباں کوئی زنداں میں نیا ہے مجنوں

آتی آواز سلاسل کبھی ایسی تو نہ تھی


نگہ یار کو اب کیوں ہے تغافل اے دل

وہ ترے حال سے غافل کبھی ایسی تو نہ تھی


چشم قاتل مری دشمن تھی ہمیشہ لیکن

جیسی اب ہو گئی قاتل کبھی ایسی تو نہ تھی


کیا سبب تو جو بگڑتا ہے ظفر سے ہر بار

خو تری حور شمائل کبھی ایسی تو نہ تھی

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


اتوار، 9 اگست، 2026

کہاں آ کے رکنے تھے راستے کہاں موڑ تھا اسے بھول جا۔ امجد اسلام امجد کی غزل

کہاں آ کے رکنے تھے راستے کہاں موڑ تھا اسے بھول جا

وہ جو مل گیا اسے یاد رکھ جو نہیں ملا اسے بھول جا


وہ ترے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پہ برس گئیں

دل بے خبر مری بات سن اسے بھول جا اسے بھول جا


میں تو گم تھا تیرے ہی دھیان میں تری آس تیرے گمان میں

صبا کہہ گئی مرے کان میں مرے ساتھ آ اسے بھول جا


کسی آنکھ میں نہیں اشک غم ترے بعد کچھ بھی نہیں ہے کم

تجھے زندگی نے بھلا دیا تو بھی مسکرا اسے بھول جا


کہیں چاک جاں کا رفو نہیں کسی آستیں پہ لہو نہیں

کہ شہید راہ ملال کا نہیں خوں بہا اسے بھول جا


کیوں اٹا ہوا ہے غبار میں غم زندگی کے فشار میں

وہ جو درد تھا ترے بخت میں سو وہ ہو گیا اسے بھول جا


تجھے چاند بن کے ملا تھا جو ترے ساحلوں پہ کھلا تھا جو

وہ تھا ایک دریا وصال کا سو اتر گیا اسے بھول جا


امجد اسلام امجد کی خوبصورت غزل

 

منگل، 28 جولائی، 2026

کچھ اس ادا سے آج وہ پہلو نشیں رہے ۔ جگر مراد آبادی کی غزل

 کچھ اس ادا سے آج وہ پہلو نشیں رہے

جب تک ہمارے پاس رہے ہم نہیں رہے


ایمان و کفر اور نہ دنیا و دیں رہے

اے عشق شاد باش کہ تنہا ہمیں رہے


عالم جب ایک حال پہ قائم نہیں رہے

کیا خاک اعتبار نگاہ یقیں رہے


میری زباں پہ شکوہ درد آفریں رہے

شاید مرے حواس ٹھکانے نہیں رہے


جب تک الٰہی جسم میں جان حزیں رہے

نظریں مری جوان رہیں دل حسیں رہے


یارب کسی کے راز محبت کی خیر ہو

دست جنوں رہے نہ رہے آستیں رہے


تا چند جوش عشق میں دل کی حفاظتیں

میری بلا سے اب وہ جنونی کہیں رہے


جا اور کوئی ضبط کی دنیا تلاش کر

اے عشق ہم تو اب ترے قابل نہیں رہے


مجھ کو نہیں قبول دو عالم کی وسعتیں

قسمت میں کوئے یار کی دو گز زمیں رہے


اے عشق نالہ کش تری غیرت کو کیا ہوا

ہے ہے عرق عرق وہ تن نازنیں رہے


درد و غم فراق کے یہ سخت مرحلے

حیراں ہوں میں کہ پھر بھی تم اتنے حسیں رہے


اللہ رے چشم یار کی معجز بیانیاں

ہر اک کو ہے گماں کہ مخاطب ہمیں رہے


ظالم اٹھا تو پردۂ وہم و گمان و فکر

کیا سامنے وہ مرحلہ ہائے یقیں رہے


ذات و صفات حسن کا عالم نظر میں ہے

محدود سجدہ کیا مرا ذوق جبیں رہے


کس درد سے کسی نے کہا آج بزم میں

اچھا یہ ہے وہ ننگ محبت یہیں رہے


سر دادگان عشق و محبت کی کیا کمی

قاتل کی تیغ تیز خدا کی زمیں رہے


اس عشق کی تلافئ مافات دیکھنا

رونے کی حسرتیں ہیں جب آنسو نہیں رہے

اتوار، 26 جولائی، 2026

اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو ۔ قتیل شفائی کی خوبصورت غزل شاعری

اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو

میں ہوں تیرا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو


میں جو کانٹا ہوں تو چل مجھ سے بچا کر دامن

میں ہوں گر پھول تو جوڑے میں سجا لے مجھ کو


ترک الفت کی قسم بھی کوئی ہوتی ہے قسم

تو کبھی یاد تو کر بھولنے والے مجھ کو


مجھ سے تو پوچھنے آیا ہے وفا کے معنی

یہ تری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو


میں سمندر بھی ہوں موتی بھی ہوں غوطہ زن بھی

کوئی بھی نام مرا لے کے بلا لے مجھ کو


تو نے دیکھا نہیں آئینے سے آگے کچھ بھی

خود پرستی میں کہیں تو نہ گنوا لے مجھ کو


باندھ کر سنگ وفا کر دیا تو نے غرقاب

کون ایسا ہے جو اب ڈھونڈ نکالے مجھ کو


خود کو میں بانٹ نہ ڈالوں کہیں دامن دامن

کر دیا تو نے اگر میرے حوالے مجھ کو


میں کھلے در کے کسی گھر کا ہوں ساماں پیارے

تو دبے پاؤں کبھی آ کے چرا لے مجھ کو


کل کی بات اور ہے میں اب سا رہوں یا نہ رہوں

جتنا جی چاہے ترا آج ستا لے مجھ کو


بادہ پھر بادہ ہے میں زہر بھی پی جاؤں قتیلؔ

شرط یہ ہے کوئی بانہوں میں سنبھالے مجھ کو