اپنی پسند کی شاعری تلاش کریں

qateel shifai shayari لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
qateel shifai shayari لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 26 جولائی، 2026

اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو ۔ قتیل شفائی کی خوبصورت غزل شاعری

اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو

میں ہوں تیرا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو


میں جو کانٹا ہوں تو چل مجھ سے بچا کر دامن

میں ہوں گر پھول تو جوڑے میں سجا لے مجھ کو


ترک الفت کی قسم بھی کوئی ہوتی ہے قسم

تو کبھی یاد تو کر بھولنے والے مجھ کو


مجھ سے تو پوچھنے آیا ہے وفا کے معنی

یہ تری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو


میں سمندر بھی ہوں موتی بھی ہوں غوطہ زن بھی

کوئی بھی نام مرا لے کے بلا لے مجھ کو


تو نے دیکھا نہیں آئینے سے آگے کچھ بھی

خود پرستی میں کہیں تو نہ گنوا لے مجھ کو


باندھ کر سنگ وفا کر دیا تو نے غرقاب

کون ایسا ہے جو اب ڈھونڈ نکالے مجھ کو


خود کو میں بانٹ نہ ڈالوں کہیں دامن دامن

کر دیا تو نے اگر میرے حوالے مجھ کو


میں کھلے در کے کسی گھر کا ہوں ساماں پیارے

تو دبے پاؤں کبھی آ کے چرا لے مجھ کو


کل کی بات اور ہے میں اب سا رہوں یا نہ رہوں

جتنا جی چاہے ترا آج ستا لے مجھ کو


بادہ پھر بادہ ہے میں زہر بھی پی جاؤں قتیلؔ

شرط یہ ہے کوئی بانہوں میں سنبھالے مجھ کو

گرمیءِ ءِحسرت ناکام سے جل جاتے ہیں ۔ قتیل شفائی کی غزل

گرمیءِ ءِحسرت ناکام سے جل جاتے ہیں

ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں


شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لیے

ہم اسی آگ میں گمنام سے جل جاتے ہیں


بچ نکلتے ہیں اگر آتش سیال سے ہم

شعلۂ عارض گلفام سے جل جاتے ہیں


خود نمائی تو نہیں شیوۂ ارباب وفا

جن کو جلنا ہو وہ آرام سے جل جاتے ہیں


ربط باہم پہ ہمیں کیا نہ کہیں گے دشمن

آشنا جب ترے پیغام سے جل جاتے ہیں


جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ

جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں