اپنی پسند کی شاعری تلاش کریں

اتوار، 26 جولائی، 2026

گرمیءِ ءِحسرت ناکام سے جل جاتے ہیں ۔ قتیل شفائی کی غزل

گرمیءِ ءِحسرت ناکام سے جل جاتے ہیں

ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں


شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لیے

ہم اسی آگ میں گمنام سے جل جاتے ہیں


بچ نکلتے ہیں اگر آتش سیال سے ہم

شعلۂ عارض گلفام سے جل جاتے ہیں


خود نمائی تو نہیں شیوۂ ارباب وفا

جن کو جلنا ہو وہ آرام سے جل جاتے ہیں


ربط باہم پہ ہمیں کیا نہ کہیں گے دشمن

آشنا جب ترے پیغام سے جل جاتے ہیں


جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ

جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں