اپنی پسند کی شاعری تلاش کریں

poetry in urdu لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
poetry in urdu لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 19 ستمبر، 2026

کیونکر نہ خاکسار رہیں اہل کیں سے دور ۔ بہادر شاہ ظفر کی غزل شاعری

کیونکر نہ خاکسار رہیں اہل کیں سے دور

دیکھو زمیں فلک سے فلک ہے زمیں سے دور


پروانہ وصل شمع پہ دیتا ہے اپنی جاں

کیونکر رہے دل اس کے رخ آتشیں سے دور


مضمون وصل و ہجر جو نامہ میں ہے رقم

ہے حرف بھی کہیں سے ملے اور کہیں سے دور


گو تیر بے گماں ہے مرے پاس پر ابھی

جائے نکل کے سینۂ چرخ بریں سے دور


وہ کون ہے کہ جاتے نہیں آپ جس کے پاس

لیکن ہمیشہ بھاگتے ہو تم ہمیں سے دور


حیران ہوں کہ اس کے مقابل ہو آئینہ

جو پر غرور کھنچتا ہے ماہ مبیں سے دور


یاں تک عدو کا پاس ہے ان کو کہ بزم میں

وہ بیٹھتے بھی ہیں تو مرے ہم نشیں سے دور


منظور ہو جو دید تجھے دل کی آنکھ سے

پہنچے تری نظر نگہ دور بیں سے دور


دنیائے دوں کی دے نہ محبت خدا ظفر

انساں کو پھینک دے ہے یہ ایمان و دیں سے دور