اپنی پسند کی شاعری تلاش کریں

‏Best Shayari لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏Best Shayari لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 19 ستمبر، 2026

کیونکر نہ خاکسار رہیں اہل کیں سے دور ۔ بہادر شاہ ظفر کی غزل شاعری

کیونکر نہ خاکسار رہیں اہل کیں سے دور

دیکھو زمیں فلک سے فلک ہے زمیں سے دور


پروانہ وصل شمع پہ دیتا ہے اپنی جاں

کیونکر رہے دل اس کے رخ آتشیں سے دور


مضمون وصل و ہجر جو نامہ میں ہے رقم

ہے حرف بھی کہیں سے ملے اور کہیں سے دور


گو تیر بے گماں ہے مرے پاس پر ابھی

جائے نکل کے سینۂ چرخ بریں سے دور


وہ کون ہے کہ جاتے نہیں آپ جس کے پاس

لیکن ہمیشہ بھاگتے ہو تم ہمیں سے دور


حیران ہوں کہ اس کے مقابل ہو آئینہ

جو پر غرور کھنچتا ہے ماہ مبیں سے دور


یاں تک عدو کا پاس ہے ان کو کہ بزم میں

وہ بیٹھتے بھی ہیں تو مرے ہم نشیں سے دور


منظور ہو جو دید تجھے دل کی آنکھ سے

پہنچے تری نظر نگہ دور بیں سے دور


دنیائے دوں کی دے نہ محبت خدا ظفر

انساں کو پھینک دے ہے یہ ایمان و دیں سے دور

 

پیر، 10 اگست، 2026

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے ۔ میر تقی میر کی غزل ۔ اردو شاعری

 پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے

جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے


لگنے نہ دے بس ہو تو اس کے گوہر گوش کو بالے تک

اس کو فلک چشم مہ و خور کی پتلی کا تارا جانے ہے


آگے اس متکبر کے ہم خدا خدا کیا کرتے ہیں

کب موجود خدا کو وہ مغرور خود آرا جانے ہے


عاشق سا تو سادہ کوئی اور نہ ہوگا دنیا میں

جی کے زیاں کو عشق میں اس کے اپنا وارا جانے ہے


چارہ گری بیماری دل کی رسم شہر حسن نہیں

ورنہ دلبر ناداں بھی اس درد کا چارہ جانے ہے


کیا ہی شکار فریبی پر مغرور ہے وہ صیاد بچہ

طائر اڑتے ہوا میں سارے اپنے اساریٰ جانے ہے


مہر و وفا و لطف و عنایت ایک سے واقف ان میں نہیں

اور تو سب کچھ طنز و کنایہ رمز و اشارہ جانے ہے


کیا کیا فتنے سر پر اس کے لاتا ہے معشوق اپنا

جس بے دل بے تاب و تواں کو عشق کا مارا جانے ہے


رخنوں سے دیوار چمن کے منہ کو لے ہے چھپا یعنی

ان سوراخوں کے ٹک رہنے کو سو کا نظارہ جانے ہے


تشنۂ خوں ہے اپنا کتنا میرؔ بھی ناداں تلخی کش

دم دار آب تیغ کو اس کے آب گوارا جانے ہے


میر تقی میر