اپنی پسند کی شاعری تلاش کریں

بدھ، 19 اگست، 2015

تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا ۔ کلام داغ دہلوی

تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
وہ قتل کر کے ہر کسی سے پوچھتے ہیں
یہ کام کس نے کیا ہے یہ کام کس کا تھا
وفا کرینگے ،نباہینگے، بات مانینگے
تمہیں بھی یاد ہے کچھ یہ کلام کس کا تھا
رہا نہ دل میں وہ بیدرد اور درد رہا
مقیم کون ہوا ہے مقام کس کا تھا
نہ پوچھ تاچھ تھی کسی کی وہاں نہ آو بھگت
تمہاری بزم میں کل ایہتمام کس کا تھا
انھیں صفات سے ہوتا ہے آدمی مشہور
جو لطف آپ ہی کرتے تو نام کس کا تھا
تمام بزم جسے سن کے رہ گئی مشتاق
کہو، وہ تذکرا نا تمام کس کا تھا
گزر گیا وہ زمانہ کہیں تو کس سے کہیں
خیال میرے دل کو صبح وشام کس کا تھا
اگرچہ دیکھنے والے تیرے ہزاروں تھے
تباہ حال بہت زیرے بام کس کا تھا
ہر اک سے کہتے ہیں کیا داغ بےوفا نکلا
یہ پوچھے ان سے کوئی وہ غلام کس کا تھا

یہ دِل یہ پاگل دِل میرا کیوں بجھ گیا آوارگی ۔۔ کلام محسن نقوی

یہ دِل یہ پاگل دِل میرا کیوں بجھ گیا آوارگی
اِس دشت میں اِک شہر تھا وہ کیا ہُوا آوارگی
کل شب مجھے بے شکل کی آواز نے چونکا دیا
میں نے کہا تُو کون ہے اُس نے کہا 146آوارگی
لوگو بھلا اُس شہر میں کیسے جئیں گے ہم جہاں
ہو جرم تنہا سوچنا لیکن سزا آوارگی
یہ درد کی تنہائیاں یہ دشت کا ویراں سفر
ہم لوگ تو اُکتا گئے اپنی سُنا آوارگی
اِک اجنبی جھونکے نے جب پوچھا میرے غم کا سبب
صحرا کی بھیگی ریت پر مَیں نے لکھا آوارگی
اُس سمت وحشی خواہشوں کی زد میں پیمانِ وفا
اِس سمت لہروں کی دھمک کچا گھڑا آوارگی
کل رات تنہا چاند کو دیکھا تھا مَیں نے خواب میں
محسن مجھے راس آئے گی شاید سدا آوارگی

کبهی کتابوں میں پهول رکهنا، کبهی درختوں په نام لکهنا ۔ کلام حسن رضوی

کبهی کتابوں میں پهول رکهنا، کبهی درختوں په نام لکهنا
ہمیں بهی ہے یاد آج تک وه نظر سے حرف سلام لکهنا
وه چاند چہرے، وه بہکے باتیں، سلگتی دن تهے، مہکتی راتیں
وه چهوٹے چهوٹے کاغذوں پر محبتوں کے پیام لکهنا
گلاب چهروں سے دل لگانا، وه چپکے چپکے نظر ملانا
وه آرزؤں کے خواب بننا، وه قصه ناتمام لکهنا
گئی رتوں میں "حسن" ہمارا، بس ایک ہی تو یه مشغله تها
کسی کے چہرے کو صبح کهنا، کسی کے زلفوں کو شام لکهنا
میری نگر کے فضاؤ کہیں جو ان کا نشان پاؤ
تو پوچهنا یه کہاں بسی ہو، کهاں ہے ان کے قیام لکهنا

چمکتے چاند کو ٹوٹا ہوا تارا بنا ڈالا ۔ نغمہ نگار اند بخشی

چمکتے چاند کو ٹوٹا ہوا تارا بنا ڈالا
مری آورگی نے مجھ کو آوارہ بنا ڈالا

بڑا دلکش، بڑا رنگین ہے یہ شہر کہتے ہیں
یہاں پر ہیں ہزاروں گھر، گھروں میں لوگ رہتے 
مجھے اس شہر میں گلیوں کا بنجارہ بنا ڈالا

میں اس دنیا کو اکثر دیکھ کر حیران ہوتا ہوں
نہ مجھ سے بن سکا چھوٹا سا گھر دن رات روتا ہوں
خدایا تونے کیسے یہ جہاں سارا بنا ڈالا

مرے مالک مرا دل کیوں تڑپتا ہے، سلگتا ہے
تری مرضی، تری مرضی پہ کس کا زور چلتا ہے
کسی کو گل کسی کو تو نے انگارہ بنا ڈالا

یہی آغاز تھا میرا، یہی انجام ہونا تھا
مجھے برباد ہونا تھا، مجھے ناکام ہونا تھا
مجھے تقدیر نے تقدیر کا مارا بنا ڈالا

چمکتے چاند کو ٹوٹا ہوا تارا بنا ڈالا
مری آورگی نے مجھ کو آوارہ بنا ڈالا

مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ ۔ فیض احمد فیض


مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ

میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات
تیرا غم ہے تو غمِ دہر کا جھگڑا کیا ہے
تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات
تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے؟
تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائے
یوں نہ تھا، میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائے
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

ان گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم
ریشم و اطلس و کمخاب میں بُنوائے ہوئے
جابجا بکتے ہوئے کوچہ و بازار میں جسم
خاک میں لتھڑے ہوئے خون میں نہلائے ہوئے

لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے
اب بھی دلکش ہے ترا حسن مگر کیا کیجے
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں میں محبت کے سوا
راحتیں او ربھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ

جمعہ، 7 اگست، 2015

بہادر شاہ ظفر کی منتخب شاعری

کسی نے اس کو سمجھایا تو ہوتا
کوئی یاں تک اسے لایا تو ہوتا
مزہ رکھتا ہے زخم خنجر عشق
کبھی اے بوالہوس کھایا تو ہوتا
نہ بھیجا تو نے لکھ کر ایک پرچہ
ہمارے دل کو پرچایا تو ہوتا
کہا عیسیٰ نے قم کشتے کو تیرے
کچھ اب تو نے بھی فرمایا تو ہوتا
نہ بولا ہم نے کھرکایا بہت در
ذرا درباں کو کھڑکایا تو ہوتا
یہ نخل آہ ہوتا بید ہی کاش
نہ ہوتا گو ثمر سایا تو ہوتا
جو کچھ ہوتا سو ہوتا تو نے تقدیر
وہاں تک مجھ کو پہنچایا تو ہوتا
کیا کس جرم پر تو نے مجھے قتل
ذرا تو دل میں شرمایا تو ہوتا
کیا تھا گر مریض عشق مجھ کو
عیادت کو کبھی آیا تو ہوتا
دل اس کی زلف میں الجھا ہے کب سے
ظفر اک روز سلجھایا تو ہوتا
بہادر شاہ ظفر

ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام ہی آئے ۔ ادا جعفری


ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام ہی آئے 
آئے تو سہی بر سرِ الزام ہی آئے
حیران ہیں، لب بستہ ہیں، دل گیر ہیں غنچے
خوشبو کی زبانی تیرا پیغام ہی آئے
لمہحاتِ مسرت ہیں تصوّر سے گریزاں
یاد آئے ہیں جب بھی غم و آلام ہی آئے
تاروں سے سجالیں گے رہ شہرِ تمنّا
مقدور نہیں صبح ، چلو شام ہی آئے
کیا راہ بدلنے کا گلہ ہم سفروں سے
جس راہ سے چلے تیرے در و بام ہی آئے
تھک ہار کے بیٹھے ہیں سرِ کوئے تمنّا
کام آئے تو پھر جذبئہِ نام ہی آئے
باقی نہ رہے ساکھ ادا دشتِ جنوں کی 
دل میں اگر اندیشہ انجام ہی آئے
ادا جعفری