اپنی پسند کی شاعری تلاش کریں
جمعرات، 17 ستمبر، 2015
بدھ، 16 ستمبر، 2015
سحر جیتے گی یا شام ِ غریبَاں دیکھتے رہنا . (مصطفیٰ زیدی )
سحر جیتے گی یا شام ِ غریبَاں دیکھتے رہنا
یہ سر جھکتے ہیں یا دیوار ِ زنداں دیکھتے رہنا
ہر اک اہل ِ لہو نے بازیِ ایماں لگا دی ہے
جو اب کی بار ہوگا وہ چراغاں دیکھتے رہنا
ادھر سے مدّعی گزریں گے ایقان ِ شریعت کے
نظر آجائے شاید کوئی انساں دیکھتے رہنا
اُسے تم لوگ کیا سمجھو گے جیسا ہم سمجھتے ہیں !
مگر پھر بھی کریں گے اس سے پیماں دیکھتے رہنا
سمجھ میں آگیا تیری نگاہوں کے الجھنے پر !
بھری محفل میں سب کا ہم کو حیراں دیکھتے رہنا
ہزاروں مہرباں اس راستے پر ساتھ آئیں گے
میاں یہ دل ہے یہ جیب و گریباں دیکھتے رہنا
دبا رکھو یہ لہریں ایک دن آہستہ آہستہ
یہی بن جائیں گی ، تمہید ِ طوفاں دیکھتے رہنا
(مصطفیٰ زیدی )
یہ سر جھکتے ہیں یا دیوار ِ زنداں دیکھتے رہنا
ہر اک اہل ِ لہو نے بازیِ ایماں لگا دی ہے
جو اب کی بار ہوگا وہ چراغاں دیکھتے رہنا
ادھر سے مدّعی گزریں گے ایقان ِ شریعت کے
نظر آجائے شاید کوئی انساں دیکھتے رہنا
اُسے تم لوگ کیا سمجھو گے جیسا ہم سمجھتے ہیں !
مگر پھر بھی کریں گے اس سے پیماں دیکھتے رہنا
سمجھ میں آگیا تیری نگاہوں کے الجھنے پر !
بھری محفل میں سب کا ہم کو حیراں دیکھتے رہنا
ہزاروں مہرباں اس راستے پر ساتھ آئیں گے
میاں یہ دل ہے یہ جیب و گریباں دیکھتے رہنا
دبا رکھو یہ لہریں ایک دن آہستہ آہستہ
یہی بن جائیں گی ، تمہید ِ طوفاں دیکھتے رہنا
(مصطفیٰ زیدی )
پیر، 14 ستمبر، 2015
اس دل کے جھروکے میں اک روپ کی رانی ہے ۔ ابن انشاء
ابن انشاء
اس دل کے جھروکے میں اک روپ کی رانی ہے
اس روپ کی رانی کی تصویر بنانی ہے
ہم اہل محبت کی وحشت کا وہ درماں ہے
ہم اہل محبت کو آزاد جوانی ہے
ہاں چاند کے داغوں کو سینے میں بساتے ہیں
دنیا کہے دیوانا ۔۔۔ دنیا دیوانی ہے
اک بات مگر ہم بھی پوچھیں جو اجازت
کیوں تم نے یہ غم یہ کر پردیس کی ٹھانی ہے
سکھ لے کر چلے جانا ، دکھ دے کر چلے جا نا
کیوں حسن کے ماتوں کی یہ ریت پرانی ہے
ہدیہ دل مفلس کا چھ شعر غزل کے ہیں
قیمت میں تو ہلکے ہیں انشا کی نشانی ہے
اتوار، 13 ستمبر، 2015
اِتنی مُدّت بعد ملے ہو ۔ محسن نقوی
اِتنی مُدّت بعد ملے ہو
کن سوچوں میں گم رہتے ہو؟
اِتنے خائف کیوں رہتے ہو؟
ہر آہٹ سے ڈر جاتے ہو
تیز ہَوا نے مجھ سے پوچھا
ریت پہ کیا لکھتے رہتے ہو؟
کاش کوئی ہم سے بھی پوچہے
رات گئے تک کیوں جاگے ہو؟
میں دریا سے بھی ڈرتا ہوں
تم دریا سے بھی گہرے ہو!
کون سی بات ہے تم میں ایسی
اِتنے اچھّے کیوں لگتے ہو؟
پیچھے مڑ کر کیوں دیکھا تھا
ّپتھر بن کر کیا تکتے ہو
جاؤ جیت کا جشن مناؤ!
میں جھوٹا ہوں، تم سچّے ہو
اپنے شہر کے سب لوگوں سے
میری خاطر کیوں اُلجھے ہو؟
کہنے کو رہتے ہو دل میں!
پھر بھی کتنے دُور کھڑے ہو
رات ہمیں کچھ یاد نہیں تھا
رات بہت ہی یاد آئے ہو
ہم سے نہ پوچھو ہجر کے قصّے
اپنی کہو اب تم کیسے ہو؟
محسن تم بدنام بہت ہو
جیسے ہو، پھر بھی اچھّے ہو-
محسن نقوی
ایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوں ۔ ابنِ انشاء
ایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوں
ایک میلے میں پہنچا ہمکتا ہُوا
جی مچلتا تھا ایک اک شے پر مگر
جیب خالی تھی، کچھ مول لے نہ سکا۔
لوٹ آیا لئے حسرتیں سینکڑوں
ایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوں۔
خیر محرومیوں کے وہ دن تو گئے۔
آج میلہ لگا ہے اسی شان سے
آج چاہوں تو ایک اک دکاں مول لوں۔
آج چاہوں تو سارا جہاں مول لوں۔
نارسائی کا اب جی میں دھڑکا کہاں!
پر وہ چھوٹا سا، الہڑ سا لڑکا کہاں!!
ابنِ انشاء
ایک میلے میں پہنچا ہمکتا ہُوا
جی مچلتا تھا ایک اک شے پر مگر
جیب خالی تھی، کچھ مول لے نہ سکا۔
لوٹ آیا لئے حسرتیں سینکڑوں
ایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوں۔
خیر محرومیوں کے وہ دن تو گئے۔
آج میلہ لگا ہے اسی شان سے
آج چاہوں تو ایک اک دکاں مول لوں۔
آج چاہوں تو سارا جہاں مول لوں۔
نارسائی کا اب جی میں دھڑکا کہاں!
پر وہ چھوٹا سا، الہڑ سا لڑکا کہاں!!
ابنِ انشاء
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
