اپنی پسند کی شاعری تلاش کریں
اتوار، 24 جنوری، 2016
قابل اجمیری کی خوبصورت غزل ۔۔۔۔ تم نہ مانو مگر ، حقیقت ہے
تم نہ مانو مگر ، حقیقت ہے
عشق انسان کی ضرورت ہے
کچھ تو دل مبتلائے وحشت ہے
کچھ تری یاد بھی قیامت ہے
میرے محبوب مجھ سے جُھوٹ نہ بول
جُھوٹ ــ صورت گرِ صداقت ہے
جی رہا ہوں ـ ـ اِس اعتماد کیساتھ
زندگی کو ـــ میری ضرورت ہے
حُسن ہی حسن ـ ـ جلوے ہی جلوے
صرف ـــ احساس کی ضرورت ہے
اُن کے وعدے پہ ناز تھے کیا کیا
اب ـــ در و بام سے ندامت ہے
اُسکی محفل میں ـ ـ بیٹھ کر دیکھو
زندگی ـــ کتنی خوبصورت ہے
راستہ کٹ ہی جائے گا قابلؔ
شوقِ منزل ـــ اگر سلامت ہے
شاعر: قابل اجمیریؔ
عشق انسان کی ضرورت ہے
کچھ تو دل مبتلائے وحشت ہے
کچھ تری یاد بھی قیامت ہے
میرے محبوب مجھ سے جُھوٹ نہ بول
جُھوٹ ــ صورت گرِ صداقت ہے
جی رہا ہوں ـ ـ اِس اعتماد کیساتھ
زندگی کو ـــ میری ضرورت ہے
حُسن ہی حسن ـ ـ جلوے ہی جلوے
صرف ـــ احساس کی ضرورت ہے
اُن کے وعدے پہ ناز تھے کیا کیا
اب ـــ در و بام سے ندامت ہے
اُسکی محفل میں ـ ـ بیٹھ کر دیکھو
زندگی ـــ کتنی خوبصورت ہے
راستہ کٹ ہی جائے گا قابلؔ
شوقِ منزل ـــ اگر سلامت ہے
شاعر: قابل اجمیریؔ
داغ دہلوی کی خوبصورت غزل ۔۔ لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے
لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے
رنج بھی ایسے اٹھائے ہیں کہ جی جانتا ہے
جو زمانے کے ستم ہیں ، وہ زمانہ جانے
تو نے دل اتنے ستائے ہیں کہ جی جانتا ہے
مسکراتے ہوئے وہ مجمعِ اغیار کے ساتھ
آج یوں بزم میں آئے ہیں کہ جی جانتا ہے
انہی قدموں نے تمھارے انہی قدموں کی قسم
خاک میں اتنے ملائے ہیں کہ جی جانتا ہے
تم نہیں جانتے اب تک یہ تمہارے انداز
وہ مرے دل میں سمائے ہیں کہ جی جانتا ہے
سادگی، بانکپن، اغماض، شرارت، شوخی
تو نے انداز وہ پائے ہیں کہ جی جانتا ہے
دوستی میں تری درپردہ ہمارے دشمن
اس قدر اپنے پرائے ہیں کہ جی جانتا ہے
کعبہ و دیر میں پتھرا گئیں دونوں آنکھیں
ایسے جلوے نظر آئے ہیں کہ جی جانتا ہے
داغِ وارفتہ کو ہم آج ترے کوچے سے
اس طرح کھینچ کے لائے ہیں کہ جی جانتا ہے
رنج بھی ایسے اٹھائے ہیں کہ جی جانتا ہے
جو زمانے کے ستم ہیں ، وہ زمانہ جانے
تو نے دل اتنے ستائے ہیں کہ جی جانتا ہے
مسکراتے ہوئے وہ مجمعِ اغیار کے ساتھ
آج یوں بزم میں آئے ہیں کہ جی جانتا ہے
انہی قدموں نے تمھارے انہی قدموں کی قسم
خاک میں اتنے ملائے ہیں کہ جی جانتا ہے
تم نہیں جانتے اب تک یہ تمہارے انداز
وہ مرے دل میں سمائے ہیں کہ جی جانتا ہے
سادگی، بانکپن، اغماض، شرارت، شوخی
تو نے انداز وہ پائے ہیں کہ جی جانتا ہے
دوستی میں تری درپردہ ہمارے دشمن
اس قدر اپنے پرائے ہیں کہ جی جانتا ہے
کعبہ و دیر میں پتھرا گئیں دونوں آنکھیں
ایسے جلوے نظر آئے ہیں کہ جی جانتا ہے
داغِ وارفتہ کو ہم آج ترے کوچے سے
اس طرح کھینچ کے لائے ہیں کہ جی جانتا ہے
داغ دہلوی
احمد فراز کی ایک خوبصورت نظم ۔۔۔۔ یہ میری غزلیں یہ میری نظمیں
یہ میری غزلیں یہ میری نظمیں
تمام تیری حکایتیں ہیں
یہ تذکرے تیرے لطف کے ہیں
یہ شعر تیری شکایتیں ہیں
میں سب تیری نذر کر رہا ہوں
یہ ان زمانوں کی ساعتیں ہیں
جو زندگی کے نئے سفر میں
تجھے کسی وقت یاد آئیں
تو ایک اک حرف جی اٹھے گا
پہن کے انفاس کی قبائیں
اُداس تنہائیوں کے لمحوں میں
ناچ اٹھیں گی یہ اپسرائیں
مجھے ترے درد کے علاوہ بھی
اور دکھ تھے میں مانتا ہوں
ہزار غم تھے جو زندگی کی
تلاش میں تھے یہ جانتا ہوں
یہ زخم گلزار بن گئے ہیں
یہ آہِ سوزاں گھٹا بنی ہے
اور ابیہ ساری متاعِ ہستی
یہ پھول یہ زخم سب ترے ہیں
جو تیری قربت تری جدائی
میں کٹ گئے روزوشب ترے ہیں
وہ تیرا شاعر وہ تیرا مغنی
وہ جسکی باتیں عجیب سی تھیں
وہ جسکے جینے کی خواہشیں بھی
خوداسکے اپنے نصیب سی تھیں
نہ پوچھ اسکا کہ وہ دیوانہ
بہت دنوں سے اُجڑ چکا ہے
وہ کوہکن تو نہیں تھا لیکن
کڑی چٹانوں سے لڑچکا ہے
وہ تھک چکاتھا اور اسکا تیشہ
اُسی کے سینے میں گڑچکا ہے
(احمد فراز)
تمام تیری حکایتیں ہیں
یہ تذکرے تیرے لطف کے ہیں
یہ شعر تیری شکایتیں ہیں
میں سب تیری نذر کر رہا ہوں
یہ ان زمانوں کی ساعتیں ہیں
جو زندگی کے نئے سفر میں
تجھے کسی وقت یاد آئیں
تو ایک اک حرف جی اٹھے گا
پہن کے انفاس کی قبائیں
اُداس تنہائیوں کے لمحوں میں
ناچ اٹھیں گی یہ اپسرائیں
مجھے ترے درد کے علاوہ بھی
اور دکھ تھے میں مانتا ہوں
ہزار غم تھے جو زندگی کی
تلاش میں تھے یہ جانتا ہوں
یہ زخم گلزار بن گئے ہیں
یہ آہِ سوزاں گھٹا بنی ہے
اور ابیہ ساری متاعِ ہستی
یہ پھول یہ زخم سب ترے ہیں
جو تیری قربت تری جدائی
میں کٹ گئے روزوشب ترے ہیں
وہ تیرا شاعر وہ تیرا مغنی
وہ جسکی باتیں عجیب سی تھیں
وہ جسکے جینے کی خواہشیں بھی
خوداسکے اپنے نصیب سی تھیں
نہ پوچھ اسکا کہ وہ دیوانہ
بہت دنوں سے اُجڑ چکا ہے
وہ کوہکن تو نہیں تھا لیکن
کڑی چٹانوں سے لڑچکا ہے
وہ تھک چکاتھا اور اسکا تیشہ
اُسی کے سینے میں گڑچکا ہے
(احمد فراز)
پیر، 18 جنوری، 2016
اتوار، 17 جنوری، 2016
قسم کھاتا ہوں اے کوہِ الم! دستِ زلیخا کی ۔ جوش ملیح آبادی
اگر انسان ہوں، دنیا کو حیراں کر کے چھوڑوں گا
میں ہر ناچیز ذرّے کو گلستاں کر کے چھوڑوں گا
تری اِس اُلفت کی سوگند، اے لیلائے رنگینی
کہ ارضِ خار و خس کو سُنبلستاں کر کے چھوڑوں گا
وہ پنہاں قوّتیں جو مِل کے زک دیتی ہیں دُنیا کو
اُنہیں آپس ہی میں دست و گریباں کر کے چھوڑوں گا
سرِ تقلید کو مغزِ تفکر سے جِلا دے کر
چراغِ مردہ کو مہرِ درخشاں کر کے چھوڑوں گا
شعارِ تازہ کو بخشوں گا آب و رنگِ جمیعت
رسوم کُہنہ کی محفل کو ویراں کر کے چھوڑوں گا
چراغِ اجتہادِ نَو بہ نَو کی جلوہ ریزی سے
سرِ راہِ خرد مندی چراغاں کر کے چھوڑوں گا
مُسلطّ ہیں ازل کے روز سے جو ابنِ آدم پر
میں اُن اوہام کو سردر گریباں کر کے چھوڑوں گا
ترے اس پیچ و خم کھاتے دُھویں کو شمع حق بینی
فرازِ عقل پر ابرِ خراماں کر کے چھوڑوں گا
جو انساں، آج سنگ و خشت کو معبود کہتا ہے
اُس انساں کو الوہیت بداماں کر کے چھوڑوں گا
قناعت جس نے کر لی ہے عناصر کی غلامی پر
میں اُس کو کِرد گارِ بادوباراں کر کے چھوڑوں گا
قسم کھاتا ہوں اے کوہِ الم! دستِ زلیخا کی
کہ داماں کو ترے یوسف کا داماں کر کے چھوڑوں گا
پکاروں گا کلیم نو کو طُورِ عصرِ حاضر سے
جو کچھ کہہ دوں گا اُس کو دین و ایماں کر کے چھوڑوں گا
مری حکمت، بشر کو دعوتِ نَو دے کے دم لے گی
میں اِس بھٹکے ہوئے انساں کو انساں کر کے چھوڑوں گا
اگر یہ کُفر ہے جو کچھ زباں پر میری جاری ہے
تو میں اِس کفر کو گلبانگِ عرفاں کر کے چھوڑوں گا
اگر عصیاں ہی پر موقوف ہے انساں کی بیداری
تو میں دُنیا کو غرقِ بحرِ عصیاں کر کے چھوڑوں گا
لہلہا ئیں گی پھر کھیتیاں کارواں کارواں ۔ ناصر کاظمی
رہ نوردِ بیابانِ غم صبر کر صبر کر
کارواں پھر ملیں گے بہم صبر کر صبر کر
بے نشاں ہے سفر رات ساری پڑی ہے مگر
آرہی ہے صدا دم بدم صبر کر صبر کر
تیری فریاد گونجے گی دھرتی سے آکاش تک
کوئی دن اور سہہ لے ستم صبر کر صبر کر
تیرے قدموں سے جاگیں گے اُجڑے دلوں کے ختن
پا شکستہ غزالِ حرم صبر کر صبر کر
شہر اجڑے تو کیا ہے کشادہ زمینِ خدا
اک نیا گھر بنائیں گے ہم صبر کر صبر کر
یہ محلاّتِ شاہی تباہی کے ہیں منتظر
گرنے والے ہیں ان کے علم صبر کر صبر
دف بجائیں گے برگ و شجر صف بہ صف ہر طرف
خشک مٹی سے پھوٹے گا نم صبر کر صبر کر
لہلہا ئیں گی پھر کھیتیاں کارواں کارواں
کھل کے برسے گا ابر کرم صبر کر صبر کر
کیوں پٹکتا ہے سر سنگ سے جی جلا ڈھنگ سے
دل ہی بن جائے گا خود صنم صبر کر صبر کر
پہلے کھل جائے دل کا کنول پھر لکھیں گے غزل
کوئی دم اے صریر قلم صبر کر صبر کر
درد کے تار ملنے تو دے ہونٹ ہلنے تو دے
ساری باتیں کریں گے رقم صبر کر صبر کر
دیکھ ناصر زمانے میں کوئی کسی کا نہیں
بھول جا اُس کے قول و قسم صبر کر صبر کر
کارواں پھر ملیں گے بہم صبر کر صبر کر
بے نشاں ہے سفر رات ساری پڑی ہے مگر
آرہی ہے صدا دم بدم صبر کر صبر کر
تیری فریاد گونجے گی دھرتی سے آکاش تک
کوئی دن اور سہہ لے ستم صبر کر صبر کر
تیرے قدموں سے جاگیں گے اُجڑے دلوں کے ختن
پا شکستہ غزالِ حرم صبر کر صبر کر
شہر اجڑے تو کیا ہے کشادہ زمینِ خدا
اک نیا گھر بنائیں گے ہم صبر کر صبر کر
یہ محلاّتِ شاہی تباہی کے ہیں منتظر
گرنے والے ہیں ان کے علم صبر کر صبر
دف بجائیں گے برگ و شجر صف بہ صف ہر طرف
خشک مٹی سے پھوٹے گا نم صبر کر صبر کر
لہلہا ئیں گی پھر کھیتیاں کارواں کارواں
کھل کے برسے گا ابر کرم صبر کر صبر کر
کیوں پٹکتا ہے سر سنگ سے جی جلا ڈھنگ سے
دل ہی بن جائے گا خود صنم صبر کر صبر کر
پہلے کھل جائے دل کا کنول پھر لکھیں گے غزل
کوئی دم اے صریر قلم صبر کر صبر کر
درد کے تار ملنے تو دے ہونٹ ہلنے تو دے
ساری باتیں کریں گے رقم صبر کر صبر کر
دیکھ ناصر زمانے میں کوئی کسی کا نہیں
بھول جا اُس کے قول و قسم صبر کر صبر کر
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)

