اپنی پسند کی شاعری تلاش کریں

اتوار، 4 مئی، 2025

مرزا غالب کی غزل ۔ ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے ۔ اردو شاعری

ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے

تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے


نہ شعلہ میں یہ کرشمہ نہ برق میں یہ ادا

کوئی بتاؤ کہ وہ شوخ تند خو کیا ہے


یہ رشک ہے کہ وہ ہوتا ہے ہم سخن تم سے

وگرنہ خوف بد آموزی عدو کیا ہے


چپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہن

ہمارے جیب کو اب حاجت رفو کیا ہے


جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہوگا

کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے


رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل

جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے


وہ چیز جس کے لیے ہم کو ہو بہشت عزیز

سوائے بادۂ گلفام مشک بو کیا ہے


پیوں شراب اگر خم بھی دیکھ لوں دو چار

یہ شیشہ و قدح و کوزہ و سبو کیا ہے


رہی نہ طاقت گفتار اور اگر ہو بھی

تو کس امید پہ کہیے کہ آرزو کیا ہے


ہوا ہے شہہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا

وگرنہ شہر میں غالبؔ کی آبرو کیا ہے

 

ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے ۔ نظیر اکبر آبادی کی غزل شاعری

ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے

ڈاکہ، تو نہیں ڈالا، چوری، تو نہیں کی ہے​

نا تجربہ کاری سے واعظ کی یہ باتیں ہیں

اس رنگ کو کیا جانے، پوچھو تو کبھی پی ہے؟​

اس مے سے نہیں مطلب، دل جس سے ہے بیگانہ

مقصود ہے اس مے سے دل ہی میں جو کھنچتی ہے​

ہر ذرہ چمکتا ہے انوارِ الٰہی سے

ہر سانس یہ کہتی ہے ہم ہیں تو خدا بھی ہے​

سورج میں لگے دھبہ فطرت کے کرشمے ہیں

بت ہم کو کہیں کافر، اللہ کی مرضی ہے​ 

نظیر اکبر آبادی

جمعہ، 2 مئی، 2025

وٹامن ڈی کی کمی: وجوہات، علامات اور علاج | مکمل رہنمائی

 🌞 وٹامن ڈی: صحت مند زندگی کے لیے ایک ضروری وٹامن

وٹامن ڈی ایک اہم غذائی جزو ہے جو انسانی جسم کی ہڈیوں، دانتوں، پٹھوں اور مدافعتی نظام کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اسے عام طور پر "سن شائن وٹامن" کہا جاتا ہے کیونکہ یہ وٹامن سورج کی روشنی سے جلد میں پیدا ہوتا ہے۔


✅ وٹامن ڈی کے فوائد

ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے


مدافعتی نظام کو بہتر کرتا ہے


دماغی صحت میں مدد دیتا ہے


دل کی صحت میں بہتری لاتا ہے


بچوں کی نشوونما میں مددگار


⚠️ وٹامن ڈی کی کمی: ایک خاموش خطرہ

دنیا بھر میں کروڑوں افراد وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہیں، خاص طور پر وہ لوگ جو زیادہ تر وقت گھر یا دفتر میں گزارتے ہیں، یا جن کے علاقے میں سورج کی روشنی محدود ہوتی ہے۔


🔍 وٹامن ڈی کی کمی کی 5 بڑی وجوہات

سورج کی روشنی سے کم رابطہ


ایسی خوراک کا استعمال جس میں وٹامن ڈی نہ ہو


موٹاپا یا زیادہ چربی والا جسم


جلد کی گہری رنگت


کچھ خاص بیماریاں (جیسے جگر یا گردے کے مسائل)


🚨 وٹامن ڈی کی کمی کی عام علامات

ہڈیوں اور پٹھوں میں درد


مسلسل تھکاوٹ یا کمزوری


موڈ کا خراب رہنا یا ڈپریشن


بالوں کا گرنا


بچوں میں ہڈیوں کی کمزوری یا ٹانگوں کا ٹیڑھا ہونا


بڑوں میں ہڈیوں کا آسانی سے ٹوٹ جانا (اوسٹیوپوروسس)


💊 علاج اور بچاؤ

روزانہ کچھ وقت سورج کی روشنی میں گزاریں (خصوصاً صبح کے وقت)


مچھلی، انڈے کی زردی، قلعہ بند دودھ، اور دہی جیسے غذائیں استعمال کریں


ڈاکٹر کی ہدایت سے وٹامن ڈی سپلیمنٹس لیں


صحت مند طرزِ زندگی اپنائیں


وٹامن ڈی کی کمی ایک سنجیدہ معاملہ ہے لیکن تھوڑی سی توجہ اور مناسب غذائی عادات کے ذریعے اس سے بچا جا سکتا ہے۔ اگر آپ کو لگے کہ آپ میں وٹامن ڈی کی علامات ہیں تو فوراً معالج سے رجوع کریں اور ٹیسٹ کروائیں۔

احمد فراز کی بہترین غزلیں اور اشعار | اردو شاعری

 احمد فراز کی مشہور غزلیں

کٹھن ہے راہ گزر، تھوڑی دور ساتھ چلو

بہت بڑا ہے سفر، تھوڑی دور ساتھ چلو

تمام عمر کہاں کوئی ساتھ دیتا ہے

میں جانتا ہوں مگر تھوڑی دور ساتھ چلو

نشے میں چور ہوں میں بھی، تمہیں بھی ہوش نہیں

بڑا مزا ہو اگر تھوڑی دور ساتھ چلو

یہ ایک شب کی ملاقات بھی غنیمت ہے

کسے ہے کل کی خبر تھوڑی دور ساتھ چلو

ابھی تو جاگ رہے ہیں چراغ راہوں کے

ابھی ہے دور سحر، تھوڑی دور ساتھ چلو

طوافِ منزلِ جاناں ہمیں بھی کرنا ہے

فراز تم بھی اگر تھوڑی دور ساتھ چلو

۔۔۔۔

شعلہ سا جل بجھا ہوں ہوائیں مجھے نہ دو

میں کب کا جا چکا ہوں صدائیں مجھے نہ دو

جو زہر پی چکا ہوں تمہی نے مجھے دیا

اب تم تو زندگی کی دعائیں مجھے نہ دو

یہ بھی بڑا کرم ہے سلامت ہے جسم ابھی

اے خسروان شہر، قبائیں مجھے نہ دو

ایسا نہ ہو کبھی کہ پلٹ کر نہ آ سکوں

ہر بار دور جا کے صدائیں مجھے نہ دو

کب مجھ کو اعتراف محبت نہ تھا فراز

کب میں نے یہ کہا تھا سزائیں مجھے نہ دو

۔۔۔۔۔۔

تم بھی خفا ہو لوگ بھی برہم ہیں دوستو

اب ہو چلا یقیں کہ برے ہم ہیں‌ دوستو

کس کو ہمارے حال سے نسبت ہے کیا کریں

آنکھیں‌تو دُشمنوں‌کی بھی پرنم ہیں دوستو

اپنے سوا ہمارے نہ ہونے کا غم کسے

اپنی تلاش میں تو ہمی ہم ہیں دوستو

کچھ آج شام ہی سے ہے دل بھی بجھا بجھا

کچھ شہر کے چراغ بھی مدھم ہیں دوستو

اس شہرِ آرزو سے بھی باہر نکل چلو

اب دل کی رونقیں بھی کوئی دم ہیں دوستو

سب کچھ سہی فراز پر اتنا ضرور ہے

دنیا میں ایسے لوگ بہت کم ہیں دوستو

۔۔۔۔

اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم

یہ بھی بہت ہے، تجھ کو اگر بھول جائیں ہم

صحرائے زندگی میں کوئی دوسرا نہ تھا

سنتے رہے ہیں آپ ہی اپنی صدائیں ہم

اس زندگی میں اتنی فراغت کسے نصیب

اتنا نہ یاد آ کہ تجھے بھول جائیں ہم

تو اتنی دل زدہ تو نہ تھی اے شبِ فراق

آ تیرے راستے میں ستارے لٹائیں ہم

وہ لوگ اب کہاں ہیں جو کہتے تھے کل فراز

ہے ہے خدا نہ کردہ تجھے بھی رلائیں ہم

۔۔۔

وہ جو آ جاتے تھے آنکھوں میں‌ستارے لے کر

جانے کس دیس گئے خواب ہمارے لے کر

چھاؤں میں بیٹھنے والے ہی تو سب سے پہلے

پیڑ گرتا ہے تو آ جاتے ہیں آرے لے کر

وہ جو آسودۂ ساحل ہیں انہیں کیا معلوم

اب کے موج آئی تو پلٹے گی کنارے لے کر

ایسا لگتا ہے کہ ہر موسم ہجراں میں بہار

ہونٹ رکھ دیتی ہے شاخوں پہ تمہارے لے کر

شہر والوں کو کہاں یاد ہے وہ خواب فروش

پھرتا رہتا تھا جو گلیوں میں غبارے لے کر

نقدِ جاں صرف ہوا کلفتِ ہستی میں‌ فراز

اب جو زندہ ہیں‌تو کچھ سانس ادھارے لے کر

۔۔۔۔

گئے دنوں میں محبت مزاج اس کا تھا

مگر کچھ اور ہی انداز آج اس کا تھا

وہ شہر یار جب اقلیم حرف میں آیا

تو میرا دست نگر تخت و تاج اس کا تھا

میں کیا بتاؤں کہ کیوں اس نے بے وفائی کی

مگر یہی کہ کچھ ایسا مزاج اس کا تھا

لہو لہان تھا میں اور عدل کی میزان

جھکی تھی جانبِ قاتل کہ راج اس کا تھا

تجھے گلہ ہے کہ دنیا نے پھیر لیں‌ آنکھیں

فراز یہ تو سدا سے رواج اس کا تھا

۔۔۔

گفتگو اچھی لگی ذوقِ نظر اچھا لگا

مدتوں کے بعد کوئی ہمسفر اچھا لگا

دل کا دکھ جانا تو دل کا مسئلہ ہے پر ہمیں

اُس کا ہنس دینا ہمارے حال پر اچھا لگا

ہر طرح کی بے سر و سامانیوں کے باوجود

آج وہ آیا تو مجھ کو اپنا گھر اچھا لگا

باغباں گلچیں کو چاہے جو کہے ہم کو تو پھول

شاخ سے بڑھ کر کفِ دلدار پر اچھا لگا

کون مقتل میں نہ پہنچا کون ظالم تھا جسے

تیغِ قاتل سے زیادہ اپنا سر اچھا لگا

ہم بھی قائل ہیں وفا میں استواری کے مگر

کوئی پوچھے کون کس کو عمر بھر اچھا لگا

اپنی اپنی چاہتیں ہیں لوگ اب جو بھی کہیں

اک پری پیکر کو اک آشفتہ سر اچھا لگا

میر کے مانند اکثر زیست کرتا تھا فراز

تھا تو وہ دیوانہ سا شاعر مگر اچھا لگا

۔۔۔۔

آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا

وقت کا کیا ہے، گزرتا ہے گزر جائے گا

اتنا مانوس نہ ہو خلوتِ غم سے اپنی

تو کبھی خود کو بھی دیکھے گا تو ڈر جائے گا

تم سرِ راہِ وفا دیکھتے رہ جاؤ گے

اور وہ بامِ رفاقت سے اتر جائے گا

زندگی تیری عطا ہے تو یہ جانے والا

تیری بخشش تری دہلیز پہ دھر جائے گا

ڈوبتے ڈوبتے کشتی کو اچھالا دے دوں

میں نہیں، کوئی تو ساحل پہ اتر جائے گا

ضبط لازم ہے مگر دکھ ہے قیامت کا فراز

ظالم اب کے بھی نہ روۓ گا تو مر جائے گا

۔۔۔

اُس کو جُدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہوا

اب کیا کہیں یہ قصہ پرانا بہت ہوا

ڈھلتی نہ تھی کسی بھی جتن سے شبِ فراق

اے مرگِ ناگہاں! تیرا آنا بہت ہوا

ہم خُلد سے نکل تو گئے ہیں پر اے خدا

اتنے سے واقعے کا فسانہ بہت ہوا

اب ہم ہیں اور سارے زمانے کی دشمنی

اُس سے ذرا سا ربط بڑھانا بہت ہوا

اب کیوں نہ زندگی پہ محبت کو وار دیں

اس عاشقی میں جان سے جانا بہت ہوا

اب تک تو دل کا دل سے تعارف نہ ہو سکا

مانا کہ اس سے ملنا ملانا بہت ہوا

کیا کیا نہ ہم خراب ہوئے ہیں مگر یہ دل

اے یادِ یار تیرا ٹھکانہ بہت ہوا

کہتا تھا ناصحوں سے میرے منہ نہ آئیو

پھر کیا تھا ایک ہُو کا بہانہ بہت ہوا

لو پھر تیرے لبوں پہ اسی بے وفا کا ذکر

احمد فراز! تجھ سے کہا نا، بہت ہوا

۔۔۔

دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا

وہی انداز ہے ظالم کا زمانے والا

اب اسے لوگ سمجھتے ہیں گرفتار مرا

سخت نادم ہے مجھے دام میں لانے والا

صبح دم چھوڑ گیا نکہتِ گل کی صورت

رات کو غنچۂ دل میں سمٹ آنے والا

کیا کہیں کتنے مراسم تھے ہمارے اس سے

وہ جو اک شخص ہے منہ پھیر کے جانے والا

تیرے ہوتے ہوئے آ جاتی تھی ساری دنیا

آج تنہا ہوں تو کوئی نہیں آنے والا

منتظر کس کا ہوں ٹوٹی ہوئی دہلیز پہ میں

کون آئے گا یہاں کون ہے آنے والا

کیا خبر تھی جو مری جاں میں گھلا ہے اتنا

ہے وہی مجھ کو سرِ دار بھی لانے والا

میں نے دیکھا ہے بہاروں میں چمن کو جلتے

ہے کوئی خواب کی تعبیر بتانے والا

تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز

دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا

۔۔۔

رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لئے آ

آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لئے آ

کچھ تو مرے پندار محبت کا بھرم رکھ

تو بھی تو کبھی مجھ کو منانے کے لئے آ

پہلے سے مراسم نہ سہی پھر بھی کبھی تو

رسم و رہِ دنیا ہی نبھانے کے لئے آ

کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم

تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لئے آ

اک عمر سے ہوں لذت گریہ سے بھی محروم

اے راحت جاں مجھ کو رلانے کے لئے آ

اب تک دل خوش فہم کو تجھ سے ہیں امیدیں

یہ آخری شمعیں بھی بجھانے کے لئے آ

۔۔۔

سُنا ہے لوگ اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں

سو اُس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں

سُنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں

یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں

سُنا ہے ربط ھے اُس کو خراب حالوں سے

سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں

سُنا ہے دن میں اُسے تتلیاں ستاتی ہیں

سُنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں

سُنا ہے اُس کے بدن کی تراش ایسی ہے

کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں

سُنا ہے اُسے بھی ہے شعر و شاعری سے شغف

سو ہم بھی معجزے اپنے ھُنر کے دیکھتے ہیں

سُنا ہے درد کی گاہگ ہے چشمِ ناز اُس کی

سو ہم بھی اُس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں

سُنا ہے حشر ہیں اُس کی غزال سی آنکھیں

سُنا ہے اُس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں

سُنا ہے اُس کی سیاہ چشمگیں قیامت ہے

سو اُس کو سُرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں

سُنا ہے رات اُسے چاند تکتا رہتا ہے

ستارے بامِ فلک سے اُتر کے دیکھتے ہیں

سُنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکلیں اُس کی

سُنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں

سُنا ہے اُس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں

سو ہم بہار پر الزام دھر کے دیکھتے ہیں

سُنا ہے اُس کے شبستاں سے مُتصل ہے بہشت

مکیں اُدھر کے بھی جلوے اِدھر کے دیکھتے ہیں

سُنا ہے آئینہ تمثال ہے جبیں اُس کی

جو سادہ دل ہیں اُسے بن سنور کے دیکھتے ہیں

سُنا ہے چشمِ تصور سے دشتِ اِمکاں میں

پلنگ زاویے اُس کی کمر کے دیکھتے ہیں

رُکے تو گردشیں اُس کا طواف کرتی ہیں

چلے تو اُس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں

بس اِک نگاہ سے لُٹتا ہے قافلہ دل کا

سو راہروانِ تمنّا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں

اب اُس کے شہر میں ٹھہریں یا کُوچ کر جائیں

فراز آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں

ہفتہ، 10 اگست، 2024

Gheer Lain Mehfil Mein Bise Jaam Ke - Mirza Ghalib Ghazal

غیر لیں محفل میں بوسے جام کے
ہم رہیں یوں تشنہ لب پیغام کے
خستگی کا تم سے کیا شکوہ کہ یہ
ہتھکنڈے ہیں چرخِ نیلی فام کے
خط لکھیں گے گرچہ مطلب کچھ نہ ہو
ہم تو عاشق ہیں تمہارے نام کے
رات پی زمزم پہ مے اور صبح دم
دھوئے دھبّے جامۂ احرام کے
دل کو آنکھوں نے پھنسایا کیا مگر
یہ بھی حلقے ہیں تمہارے دام کے
شاہ کی ہے غسلِ صحّت کی خبر
دیکھیے کب دن پھریں حمّام کے
عشق نے غالب نکمّا کر دیا
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
غزل مرزا غالب
۔

جمعہ، 10 مئی، 2024

کہا جو ہم نے ہمیں در سے کیوں اٹھاتے ہو - نظیر اکبر الہ آبادی کی غزل

Nazeer Akbarabadi ki Ghazal 

کہا جو ہم نے ہمیں در سے کیوں اٹھاتے ہو 

کہا کہ اس لیے تم یاں جو غل مچاتے ہو 


کہا لڑاتے ہو کیوں ہم سے غیر کو ہمدم 

کہا کہ تم بھی تو ہم سے نگہ لڑاتے ہو 


کہا جو حال دل اپنا تو اس نے ہنس ہنس کر 

کہا غلط ہے یہ باتیں جو تم بناتے ہو 


کہا جتاتے ہو کیوں ہم سے روز ناز و ادا 

کہا کہ تم بھی تو چاہت ہمیں جتاتے ہو 


کہا کہ عرض کریں ہم پہ جو گزرتا ہے 

کہا خبر ہے ہمیں کیوں زباں پہ لاتے ہو 


کہا کہ روٹھے ہو کیوں ہم سے کیا سبب اس کا

کہا سبب ہے یہی تم جو دل چھپاتے ہو


کہا کہ ہم نہیں آنے کے یاںتو اس نے نظیرؔ 

کہا کہ سوچو تو کیا آپ سے تم آتے ہو

اتوار، 28 اپریل، 2024

Sarakti Jaeye hai Rukh Se Naqab Ahasta Ahasta - Ameer Meenai Ghazal

 

سرکتی جائے ہے رُخ سے نقاب آہستہ آہستہ

نکلتا آ رہا ہے آفتاب آہستہ آہستہ

جواں ہونے لگے جب وہ تو ہم سے کر لیا پردہ

حیا یک لخت آئی اور شباب آہستہ آہستہ

شبِ فرقت کا جاگا ہوں فرشتو اب تو سونے دو

کہیں فرصت میں کر لینا حساب آہستہ آہستہ

سوالِ وصل پر ان کو خدا کا خوف ہے اتنا

دبے ہونٹوں سے دیتے ہیں جواب آہستہ آہستہ

ہمارے اور تمہارے پیار میں بس فرق ہے اتنا

اِدھر تو جلدی جلدی ہے اُدھر آہستہ آہستہ

وہ بے دردی سے سر کاٹے امیر اور میں کہوں ان سے

حضور آہستہ آہستہ جناب آہستہ آہستہ

ہفتہ، 13 اپریل، 2024

Lam Yati Nazeero Kafi Nazarin Misl E To Na Shud Paida Jana . Ahmad Raza Khan Bareelvi


لم‌ یات نظیرک فی نظرٍ مثل تو نہ شد پیدا جانا 

جگ راج کو تاج تورے سر سو ہے تجھ کو شہ دوسرا جانا 

البحر علیٰ و الموج طغیٰ من بیکس و طوفاں ہوش ربا 

منجدھار میں ہوں بگڑی ہے ہوا موری نیا پار لگا جانا 

یا شمس نظرت الیٰ لیلی چو بہ طیبہ رسی عرضے بکنی 

توری جوت کی جھل جھل جگ میں رچی مری شب نے نہ دن ہونا جانا 

لک بدرٌ فی‌ الوجہ الاجمل خط ہالۂ‌ مہ زلف ابر اجل 

تورے چندن چندر پرو کنڈل رحمت کی بھرن برسا جانا 

انا فی عطش و سخاک اتم اے گیسوئے پاک اے ابر کرم 

برسن ہارے رم جھم رم جھم دو بوند ادھر بھی گرا جانا 

یا قافلتی زیدی اجلک رحمے بر حسرت تشنہ لبک 

مورا جیرا لرجے درک درک طیبہ سے ابھی نہ سنا جانا 

واھا لسویعاتٍ ذھبت آں عہد حضور بارگہ ات 

جب یاد آوت موہے کر نہ پرت دردا وہ مدینہ کا جانا 

القلب شحٍ و الہم شجوں دلزار چناں جاں زیر چنوں 

پت اپنی بپت میں کا سے کہوں میرا کون ہے تیرے سوا جانا 

الروح فداک فزد حرقا یک شعلہ دگر برزن عشقا 

مورا تن من دھن سب پھونک دیا یہ جاں بھی پیارے جلا جانا 

بس خامۂ خام نوائے رضاؔ نہ یہ طرز مری نہ یہ رنگ مرا 

ارشاد‌ احبا ناطق تھا ناچار اس راہ پڑا جانا

احمد رضا خاں بریلوی 

Niyat E Shauq Bhar Na Jaye Kahin . Nasir Kazmi Ghazal

Nasir Kazmi Ki Shayari

 نیتِ شوق بھر نہ جائے کہیں

تو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیں

آج دیکھا ہے تجھ کو دیر کے بعد
آج کا دن گزر نہ جائے کہیں

نہ ملا کر اداس لوگوں سے
حسن تیرا بکھر نہ جائے کہیں

آرزو ہے کہ تو یہاں آئے
اور پھر عمر بھر نہ جائے کہیں

جی جلاتا ہوں اور سوچتا ہوں
رائیگاں یہ ہنر نہ جائے کہیں

آو کچھ دیر رو ہی لیں ناصر
پھر یہ دریا اتر نہ جائے کہیں

naye kapray badal kar jaon kahan . NASIR KAZMI GHAZAL

naye kapray badal kar jaon kahan . NASIR KAZMI GHAZAL  

نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لیے
وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا میں باہر جاؤں کس کے لیے

جس دھوپ کی دل میں ٹھنڈک تھی وہ دھوپ اسی کے ساتھ گئی
ان جلتی بلتی گلیوں میں اب خاک اڑاؤں کس کے لیے

وہ شہر میں تھا تو اس کے لیے اوروں سے بھی ملنا پڑتا تھا
اب ایسے ویسے لوگوں کے میں ناز اٹھاؤں کس کے لیے

اب شہر میں اُس کا بدل ہی نہیں کوئی ویسا جانِ غزل ہی نہیں
ایوانِ غزل میں الفاظ کے گلدان سجاؤں کس کے لیے

مدت سے کوئی آیا نہ گیا سنسان پڑی ہے گھر کی فضا
ان خالی کمروں میں ناصر اب شمع جلاؤں کس کے لیے

غزل ناصر کاظمی

Dil Se Teri Nigah Jigar Tak Utar Gayi. Mirza Ghalib Ghazal

دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی ۔ مرزا غالب غزل

دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی

دونوں کو اک ادا میں رضامند کر گئی

شق ہو گیا ہے سینہ، خوشا لذّتِ فراغ

تکلیفِ پردہ داریِ زخمِ جگر گئی

وہ بادۂ شبانہ کی سر مستیاں کہاں

اٹھیے بس اب کہ لذّتِ خوابِ سحر گئی

اڑتی پھرے ہے خاک مری کوئے یار میں

بارے اب اے ہوا! ہوسِ بال و پر گئی

دیکھو تو دل فریبـئ اندازِ نقشِ پا

موجِ خرامِ یار بھی کیا گل کتر گئی

ہر بوالہوس نے حسن پرستی شعار کی

اب آبروئے شیوہ اہلِ نظر گئی

نظّارے نے بھی کام کِیا واں نقاب کا

مستی سے ہر نگہ ترے رخ پر بکھر گئی

فردا و دی کا تفرِقہ یک بار مٹ گیا

کل تم گئے کہ ہم پہ قیامت گزر گئی

مارا زمانے نے اسدؔاللہ خاں تمہیں

وہ ولولے کہاں وہ جوانی کدھر گئی

مرزا اسد اللہ خان غالب غزل


Koi Umeed Bar Nahi Aati . Mirza Ghalib Ghazal

کوئی امید بھر نہیں آتی ۔ مرزا غالب غزل

کوئی امید  بر نہیں آتی

کوئی صورت نظر نہیں آتی

موت کا ایک دن معین ھے

نیند کیوں رات بھر نہیں آتی

آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی

اب کسی بات پر نہیں آتی

جانتا ہوں ثوابِ طاعت و زہد

پر طبیعت ادھر نہیں آتی

ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوں

ورنہ کیا بات کر نہیں آتی

کیوں نہ چیخوں کہ یاد کرتے ہیں

میری آواز گر نہیں آتی

داغِ دل گر نظر نہیں آتا

بو بھی اے چارہ گر نہیں آتی

ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی

کچھ ہماری خبر نہیں آتی

مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی

موت آتی ہے پر نہیں آتی

کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالب

شرم تم کو مگر نہیں آتی

مرزا اسد اللہ خان غالب کی غزل 

بدھ، 22 نومبر، 2023

گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا کدھر گیا وہ - ناصر کاظمی کی غزل

 غزل ناصر کاظمی

گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا کدھر گیا وہ

عجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کر گیا وہ


بس ایک موتی سی چھب دکھا کر بس ایک میٹھی سی دھن سنا کر

ستارۂ شام بن کے آیا برنگِ خوابِ سحر گیا وہ


خوشی کی رت ہو کہ غم کا موسم نظر اُسے ڈھونڈتی ہے ہردم

وہ بوئے گل تھا کہ نغمۂ جاں مرے تو دل میں اتر گیا وہ


نہ اب وہ یادوں کا چڑھتا دریا نہ فرصتوں کی اداس برکھا

یونہی ذرا کسک ہے دل میں جو زخم گہرا تھا بھر گیا وہ


کچھ اب سنبھلنے لگی ہے جاں بھی بدل چلا دورِ آسماں بھی

جو رات بھاری تھی ٹل گئی ہے جو دن کڑا تھا گزر گیا وہ


بس ایک منزل ہے بوالہوس کی ہزار رستے ہیں اہلِ دل کے

یہی تو ہے فرق مجھ میں اس میں گزر گیا میں ٹھہر گیا وہ


شکستہ پا راہ میں کھڑا ہوں گئے دنوں کو بلا رہا ہوں

جو قافلہ میرا ہمسفر تھا مثالِ گردِ سفر گیا وہ


مرا تو خوں ہو گیا ہے پانی ستمگروں کی پلک نہ بھیگی

جو نالہ اٹھا تھا رات دِل سے نہ جانے کیوں بے اثر گیا وہ


وہ میکدے کو جگانے والا وہ رات کی نیند اڑانے والا

یہ آج کیا اس کے جی میں آئی کہ شام ہوتے ہی گھر گیا وہ


وہ ہجر کی رات کا ستارہ وہ ہم نفس ہم سخن ہمارا

سدا رہے اس کا نام پیارا سنا ہے کل رات مر گیا وہ


وہ جس کے شانے پہ ہاتھ رکھ کر سفر کیا تو نے منزلوں کا

تری گلی سے نہ جانے کیوں آج سر جھکائے گزر گیا وہ


وہ رات کا بے نوا مسافر وہ تیرا شاعر وہ تیرا ناصر

تری گلی تک تو ہم نے دیکھا پھر نہ جانے کدھر گیا وہ


کچھ یادگارِ شہرِ ستم گر ہی لے چلیں - ناصر کاظمی کی غزل


 غزل ناصر کاظمی

کچھ یادگارِ شہرِ ستم گر ہی لے چلیں

آئے ہیں اس گلی میں تو پتھر ہی لے چلیں


یوں کس طرح کٹے گا کڑی دھوپ کا سفر

سر پر خیالِ یار کی چادر ہی لے چلیں


رنجِ سفر کی کوئی نشانی تو پاس ہو

تھوڑی سی خاکِ کوچۂ دلبر ہی چلیں


یہ کہہ کے چھیٹرتی ہے ہمیں دل گرفتگی

گھبرا گئے ہیں آپ تو باہر ہی لے چلیں


اس شہرِ بے چراغ میں جائے گی تو کہاں

آ اے شبِ فراق تجھے گھر ہی لے چلیں

ناصر کاظمی


کل جنہیں زندگی تھی راس بہت - ناصر کاظمی کی غزل

Kal jinhain Zindagi Thi Raas Buhat . Nasir Kazmi Ghazal 

کل جنہیں زندگی تھی راس بہت

آج دیکھا انہیں‌اداس بہت


رفتگاں کا نشاں نہیں ملتا

اُگ رہی ہے زمیں پہ گھاس بہت


کیوں نہ روؤں تری جدائی میں

دن گزرتے ہیں تیرے پاس بہت


چھاؤں مل جائے دامنِ گل کی

ہے غریبی میں یہ لباس بہت


وادیِ دل میں پاؤں دیکھ کے رکھ

ہے یہاں درد کی اُگاس بہت


سوکھے پتوں کو دیکھ کر ناصر

یاد آتی ہے گل کی باس بہت

ناصر کاظمی


جمعہ، 19 مئی، 2023

ناصر کاظمی کی غزل ۔ تو ہے یا تیرا سایا ہے

تو ہے یا تیرا سایا ہے

بھیس جدائی نے بدلا ہے


دل کی حویلی پر مدت سے

خاموشی کا قفل پڑا ہے


چیخ رہے ہیں خالی کمرے

شام سے کتنی تیز ہوا ہے


دروازے سر پھوڑ رہے ہیں

کون اس گھر کو چھوڑ گیا ہے


تنہائی کو کیسے چھوڑوں

برسوں میں ایک یار ملا ہے


رات اندھیری ناو ساتھی

رستے میں دریا پڑتا ہے


ہچکی تھمتی ہی نہیں ناصر

آج کسی نے یاد کیا ہے


احمد فراز کی خوبصورت غزل شاعری ۔ چلو وہ عشق نہیں چاہنے کی عادت ہے

Chalo Woh Ishq Nahi . Ahmad Faraz Ghazal 

چلو وہ عشق نہیں چاہنے کی عادت ہے

پہ کیا کریں ہمیں‌ اک دوسرے کی عادت ہے

تو اپنی شیشہ گری کا ہنر نہ کر ضائع

میں آئینہ ہوں‌ مجھے ٹوٹنے کی عادت ہے

میں کیا کہوں کہ مجھے صبر کیوں نہیں آتا

میں کیا کروں کہ تجھے دیکھنے کی عادت ہے

ترے نصیب میں اے دل ! سدا کی محرومی

نہ وہ سخی، نہ تجھے مانگنے کی عادت ہے

وصال میں‌ بھی وہی ہے فراق کا عالم

کہ اسکو نیند مجھے رت جگے کی عادت ہے

یہ مشکلیں ہیں تو پھر کیسے راستے طے ہوں

میں ناصبور اسے سوچنے کی عادت ہے

یہ خود اذیتی کب تک فراز تو بھی اسے

نہ یاد کر کہ جسے بھولنے کی عادت ہے

بدھ، 17 مئی، 2023

محبت اب نہیں ہوگی ۔ منیر نیازی کی شاعری

Mohabbat Ab Nahi Hogi . Munir Niazi

ستارے جو چمکتے ہیں کسی کی چشم حیراں میں

ملاقاتیں جو ہوتی ہیں جمالِ ابرو باراں میں

یہ نا آباد وقتوں میں دلِ ناشاد میں ہوگی

محبت اب نہیں ہو گی یہ کچھ دن بعد میں ہوگی

گزر جائٰیں گے جب یہ دن یہ ان کی یاد میں ہو گی

منیر نیازی کی شاعری

بدھ، 17 مارچ، 2021

سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں / آحمد فراز رومانوی غزل


suna hai log use aankh bhar ke dekhte hain - Ahmad Faraz Love Ghazal

سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں

سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں

سُنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں

یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے ربط ھے اس کو خراب حالوں سے

سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے دن میں اُسے تتلیاں ستاتی ہیں

سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اُس کے بدن کی تراش ایسی ہے

کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اُسے بھی ہے شعر و شاعری سے شغف

سو ہم بھی معجزے اپنے ھُنر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے درد کی گاہگ ہے چشم ناز اُس کی

سو ہم بھی اُس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے حشر ہیں اُس کی غزال سی آنکھیں

سُنا ہے اُس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں

سُنا ہے اُس کی سیاہ چشمگیں قیامت ہے

سو اس کو سُرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے رات اُسے چاند تکتا رہتا ہے

ستارے بامِ فلک سے اُتر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکلیں اُس کی

سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اُس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں

سو ہم بہار پر الزام دھر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اُس کے شبستاں سے مُتصل ہے بہشت

مکیں اُدھر کے بھی جلوے اِدھر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے آئینہ تمثال ہے جبیں اُس کی

جو سادہ دل ہیں اُسے بن سنور کے دیکھتے ہیں

سنا ہے چشمِ تصور سے دشتِ اِمکاں میں

پلنگ زاویے اُس کی کمر کے دیکھتے ہیں

رکے تو گردشیں اُس کا طواف کرتی ہیں

چلے تو اُس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں

بس اِک نگاہ سے لُٹتا ہے قافلہ دل کا

سو راہروانِ تمنّا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں

اب اُس کے شہر میں ٹھہریں یا کُوچ کر جائیں

فراز آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں

Faraz Ahmad Faraz