اپنی پسند کی شاعری تلاش کریں

بدھ، 12 اگست، 2026

خرد نے مجھ کو عطا کی نظر حکیمانہ ۔ کلام اقبال ۔ علامہ اقبال کی شاعری

خرد نے مجھ کو عطا کی نظر حکیمانہ

سکھائی عشق نے مجھ کو حدیث رندانہ


نہ بادہ ہے نہ صراحی نہ دور پیمانہ

فقط نگاہ سے رنگیں ہے بزم جانانہ


مری نوائے پریشاں کو شاعری نہ سمجھ

کہ میں ہوں محرم راز درون مے خانہ


کلی کو دیکھ کہ ہے تشنۂ نسیم سحر

اسی میں ہے مرے دل کا تمام افسانہ


کوئی بتائے مجھے یہ غیاب ہے کہ حضور

سب آشنا ہیں یہاں ایک میں ہوں بیگانہ


فرنگ میں کوئی دن اور بھی ٹھہر جاؤں

مرے جنوں کو سنبھالے اگر یہ ویرانہ


مقام عقل سے آساں گزر گیا اقبال

مقام شوق میں کھویا گیا وہ فرزانہ

 

پیر، 10 اگست، 2026

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے ۔ میر تقی میر کی غزل ۔ اردو شاعری

 پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے

جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے


لگنے نہ دے بس ہو تو اس کے گوہر گوش کو بالے تک

اس کو فلک چشم مہ و خور کی پتلی کا تارا جانے ہے


آگے اس متکبر کے ہم خدا خدا کیا کرتے ہیں

کب موجود خدا کو وہ مغرور خود آرا جانے ہے


عاشق سا تو سادہ کوئی اور نہ ہوگا دنیا میں

جی کے زیاں کو عشق میں اس کے اپنا وارا جانے ہے


چارہ گری بیماری دل کی رسم شہر حسن نہیں

ورنہ دلبر ناداں بھی اس درد کا چارہ جانے ہے


کیا ہی شکار فریبی پر مغرور ہے وہ صیاد بچہ

طائر اڑتے ہوا میں سارے اپنے اساریٰ جانے ہے


مہر و وفا و لطف و عنایت ایک سے واقف ان میں نہیں

اور تو سب کچھ طنز و کنایہ رمز و اشارہ جانے ہے


کیا کیا فتنے سر پر اس کے لاتا ہے معشوق اپنا

جس بے دل بے تاب و تواں کو عشق کا مارا جانے ہے


رخنوں سے دیوار چمن کے منہ کو لے ہے چھپا یعنی

ان سوراخوں کے ٹک رہنے کو سو کا نظارہ جانے ہے


تشنۂ خوں ہے اپنا کتنا میرؔ بھی ناداں تلخی کش

دم دار آب تیغ کو اس کے آب گوارا جانے ہے


میر تقی میر


اتوار، 9 اگست، 2026

اوجھل سہی نِگاہ سے ڈوبا نہیں ہوں میں ۔ امجد اسلام امجد کی غزل ۔ اردو شاعری

 اوجھل سہی نِگاہ سے ڈوبا نہیں ہوں میں

اے رات ہوشیار کہ ہارا نہیں ہوں میں


دَرپیش صبح و شام یہی کَشمکش ہے اب

اُس کا بَنوں میں کیسے کہ اپنا نہیں ہوں میں


مجھ کو فرشتہ ہونے کا دعویٰ نہیں مگر

جِتنا بُرا سمجھتے ہو اُتنا نہیں ہوں میں


اِس طرح پھیر پھیر کہ باتیں نہ کیجیئے

لہجے کا رُخ سمجھتا ہوں بچہ نہیں ہوں میں


مُمکن نہیں ہے مجھ سے یہ طرزِ مُنافقت

دُنیا تیرے مزاج کا بَندہ نہیں ہوں میں


امجدؔ تھی بھیڑ ایسی کہ چلتے چلے گئے

گِرنے کا ایسا خوف تھا ٹِھہرا نہیں ہوں میں


امجد اسلام امجد کی غزل

کہاں آ کے رکنے تھے راستے کہاں موڑ تھا اسے بھول جا۔ امجد اسلام امجد کی غزل

کہاں آ کے رکنے تھے راستے کہاں موڑ تھا اسے بھول جا

وہ جو مل گیا اسے یاد رکھ جو نہیں ملا اسے بھول جا


وہ ترے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پہ برس گئیں

دل بے خبر مری بات سن اسے بھول جا اسے بھول جا


میں تو گم تھا تیرے ہی دھیان میں تری آس تیرے گمان میں

صبا کہہ گئی مرے کان میں مرے ساتھ آ اسے بھول جا


کسی آنکھ میں نہیں اشک غم ترے بعد کچھ بھی نہیں ہے کم

تجھے زندگی نے بھلا دیا تو بھی مسکرا اسے بھول جا


کہیں چاک جاں کا رفو نہیں کسی آستیں پہ لہو نہیں

کہ شہید راہ ملال کا نہیں خوں بہا اسے بھول جا


کیوں اٹا ہوا ہے غبار میں غم زندگی کے فشار میں

وہ جو درد تھا ترے بخت میں سو وہ ہو گیا اسے بھول جا


تجھے چاند بن کے ملا تھا جو ترے ساحلوں پہ کھلا تھا جو

وہ تھا ایک دریا وصال کا سو اتر گیا اسے بھول جا


امجد اسلام امجد کی خوبصورت غزل

 

جمعہ، 31 جولائی، 2026

دنیا میں پادشہ ہے سو ہے وہ بھی آدمی ۔ نظیر اکبر آبادی کی نظم

دنیا میں پادشہ ہے سو ہے وہ بھی آدمی

اور مفلس و گدا ہے سو ہے وہ بھی آدمی


زردار بے نوا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

نعمت جو کھا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی


ٹکڑے چبا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

ابدال، قطب و غوث، ولی آدمی ہوئے


منکر بھی آدمی ہوئے اور کفر کے بھرے

کیا کیا کرشمے کشف و کرامات کے لیے


حتٰی کہ اپنے زہد و ریاضت کے زور سے

خالق سے جا ملا ہے سو ہے وہ بھی آدمی


فرعون نے کیا تھا جو دعویٰ خدائی کا

شداد بھی بہشت بنا کر ہوا خدا


نمرود بھی خدا ہی کہاتا تھا برملا

یہ بات ہے سمجھنے کی آگے کہوں میں کیا


یاں تک جو ہو چکا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

کل آدمی کا حسن و قبح میں ہے یاں ظہور


شیطاں بھی آدمی ہے جو کرتا ہے مکر و زور

اور ہادی رہنما ہے سو ہے وہ بھی آدمی


مسجد بھی آدمی نے بنائی ہے یاں میاں

بنتے ہیں آدمی ہی امام اور خطبہ خواں


پڑھتے ہیں آدمی ہی قرآن اور نمازیاں

اور آدمی ہی ان کی چراتے ہیں جوتیاں


جو ان کو تاڑتا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

یاں آدمی پہ جان کو وارے ہے آدمی


اور آدمی پہ تیغ کو مارے ہے آدمی

پگڑی بھی آدمی کی اتارے ہے آدمی


چلا کے آدمی کو پکارے ہے آدمی

اور سن کے دوڑتا ہے سو ہے وہ بھی آدمی


چلتا ہے آدمی ہی مسافر ہو لے کے مال

اور آدمی ہی مارے ہے پھانسی گلے میں ڈال


یاں آدمی ہی صید ہے اور آدمی ہی جال

سچا بھی آدمی ہی نکلتا ہے میرے لال


اور جھوٹ کا بھرا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

یاں آدمی ہی شادی ہے اور آدمی بیاہ


قاضی وکیل آدمی اور آدمی گواہ

تاشے بجاتے آدمی چلتے ہیں خواہ مخواہ


دوڑے ہیں آدمی ہی تو مشعل جلا کے راہ

اور بیاہنے چڑھا ہے سو ہے وہ بھی آدمی


یاں آدمی نقیب ہو بولے ہے بار بار

اور آدمی ہی پیادے ہیں اور آدمی سوار


حقہ صراحی جوتیاں دوڑیں بغل میں مار

کاندھے پہ رکھ کے پالکی ہیں دوڑتے کہار


اور اس میں جو پڑا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

بیٹھے ہیں آدمی ہی دکانیں لگا لگا


اور آدمی ہی پھرتے ہیں رکھ سر پہ خونچا

کہتا ہے کوئی لو کوئی کہتا ہے لا رے لا


کس کس طرح کی بیچیں ہیں چیزیں بنا بنا

اور مول لے رہا ہے سو ہے وہ آدمی


طبلے مجیرے دائرے سارنگیاں بجا

گاتے ہیں آدمی ہی ہر اک طرح جا بجا


رنڈی بھی آدمی ہی نچاتے ہیں گت لگا

اور آدمی ہی ناچے ہیں اور دیکھ پھر مزا


جو ناچ دیکھتا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

یاں آدمی ہی لعل و جواہر میں بے بہا


اور آدمی ہی خاک سے بد تر ہے ہو گیا

کالا بھی آدمی ہے کہ الٹا ہے جوں توا


گورا بھی آدمی ہے کہ ٹکڑا ہے چاند سا

بد شکل بد نما ہے سو ہے وہ بھی آدمی


اک آدمی ہیں جن کے یہ کچھ زرق برق ہیں

روپے کے جن کے پاؤں ہیں سونے کے فرق ہیں


جھمکے تمام غرب سے لے تا بہ شرق ہیں

کم خواب تاش شال دو شالوں میں غرق ہیں


اور چیتھڑوں لگا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

حیراں ہوں یارو دیکھو تو کیا یہ سوانگ ہے


اور آدمی ہی چور ہے اور آپی تھانگ ہے

ہے چھینا جھپٹی اور بانگ تانگ ہے


دیکھا تو آدمی ہی یہاں مثل رانگ ہے

فولاد سے گڑھا ہے سو ہے وہ بھی آدمی


مرنے میں آدمی ہی کفن کرتے ہیں تیار

نہلا دھلا اٹھاتے ہیں کاندھے پہ کر سوار


کلمہ بھی پڑھتے جاتے ہیں روتے ہیں زارزار

سب آدمی ہی کرتے ہیں مردے کے کاروبار


اور وہ جو مر گیا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

اشراف اور کمینے سے لے شاہ تا وزیر


یہ آدمی ہی کرتے ہیں سب کار دل پذیر

یاں آدمی مرید ہے اور آدمی ہی پیر


اچھا بھی آدمی ہی کہاتا ہے اے نظیر

اور سب میں جو برا ہے سو ہے وہ بھی آدمی 

منگل، 28 جولائی، 2026

سنا ہے لوگ اسے انکھ بھر کے دیکھتے ہیں ۔ احمد فراز کی خوبسورت غزل


سنا ہے لوگ اسے انکھ بھر کے دیکھتے ہیں

سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں


سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے

سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں


سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز اس کی

سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں


سنا ہے اس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف

سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں


سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں

یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں


سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے

ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں


سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں

سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں


سنا ہے حشر ہیں اس کی غزال سی آنکھیں

سنا ہے اس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں


سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکلیں اس کی

سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں


سنا ہے اس کی سیہ چشمگی قیامت ہے

سو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں


سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں

سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں


سنا ہے آئنہ تمثال ہے جبیں اس کی

جو سادہ دل ہیں اسے بن سنور کے دیکھتے ہیں


سنا ہے جب سے حمائل ہیں اس کی گردن میں

مزاج اور ہی لعل و گہر کے دیکھتے ہیں


سنا ہے چشم تصور سے دشت امکاں میں

پلنگ زاویے اس کی کمر کے دیکھتے ہیں


سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے

کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں


وہ سرو قد ہے مگر بے گل مراد نہیں

کہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں


بس اک نگاہ سے لٹتا ہے قافلہ دل کا

سو رہروان تمنا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں


سنا ہے اس کے شبستاں سے متصل ہے بہشت

مکیں ادھر کے بھی جلوے ادھر کے دیکھتے ہیں


رکے تو گردشیں اس کا طواف کرتی ہیں

چلے تو اس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں


کسے نصیب کہ بے پیرہن اسے دیکھے

کبھی کبھی در و دیوار گھر کے دیکھتے ہیں


کہانیاں ہی سہی سب مبالغے ہی سہی

اگر وہ خواب ہے تعبیر کر کے دیکھتے ہیں


اب اس کے شہر میں ٹھہریں کہ کوچ کر جائیں

فرازؔ آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں 

کچھ اس ادا سے آج وہ پہلو نشیں رہے ۔ جگر مراد آبادی کی غزل

 کچھ اس ادا سے آج وہ پہلو نشیں رہے

جب تک ہمارے پاس رہے ہم نہیں رہے


ایمان و کفر اور نہ دنیا و دیں رہے

اے عشق شاد باش کہ تنہا ہمیں رہے


عالم جب ایک حال پہ قائم نہیں رہے

کیا خاک اعتبار نگاہ یقیں رہے


میری زباں پہ شکوہ درد آفریں رہے

شاید مرے حواس ٹھکانے نہیں رہے


جب تک الٰہی جسم میں جان حزیں رہے

نظریں مری جوان رہیں دل حسیں رہے


یارب کسی کے راز محبت کی خیر ہو

دست جنوں رہے نہ رہے آستیں رہے


تا چند جوش عشق میں دل کی حفاظتیں

میری بلا سے اب وہ جنونی کہیں رہے


جا اور کوئی ضبط کی دنیا تلاش کر

اے عشق ہم تو اب ترے قابل نہیں رہے


مجھ کو نہیں قبول دو عالم کی وسعتیں

قسمت میں کوئے یار کی دو گز زمیں رہے


اے عشق نالہ کش تری غیرت کو کیا ہوا

ہے ہے عرق عرق وہ تن نازنیں رہے


درد و غم فراق کے یہ سخت مرحلے

حیراں ہوں میں کہ پھر بھی تم اتنے حسیں رہے


اللہ رے چشم یار کی معجز بیانیاں

ہر اک کو ہے گماں کہ مخاطب ہمیں رہے


ظالم اٹھا تو پردۂ وہم و گمان و فکر

کیا سامنے وہ مرحلہ ہائے یقیں رہے


ذات و صفات حسن کا عالم نظر میں ہے

محدود سجدہ کیا مرا ذوق جبیں رہے


کس درد سے کسی نے کہا آج بزم میں

اچھا یہ ہے وہ ننگ محبت یہیں رہے


سر دادگان عشق و محبت کی کیا کمی

قاتل کی تیغ تیز خدا کی زمیں رہے


اس عشق کی تلافئ مافات دیکھنا

رونے کی حسرتیں ہیں جب آنسو نہیں رہے