اپنی پسند کی شاعری تلاش کریں

پیر، 23 جولائی، 2012

تری اُمید ترا انتظار جب سے ہے : فیض احمد فیض Faiz Ahmad Faiz


تری اُمید ترا انتظار جب سے ہے : فیض احمد فیض

تری اُمید ترا انتظار جب سے ہے

نہ شب کو دن سے شکایت، نہ دن کو شب سے ہے

کس کا درد ہو کرتے ہیں ہم تیرے نام رقم

گِلہ ہے جو بھی کسی سے ترے سبب سے ہے

ہُوا ہے جب سے دلِ نا صبُور بے قابو

کلام تجھ سے نظر کو بڑے ادب سے ہے

اگر شرر ہے تو بھڑکے، جو پھول ہے تو کھِلے

طرح طرح کی طلب، تیرے رنگِ لب سے ہے

کہاں گئے شبِ فرقت کے جاگنے والے

ستارۂ سحری ہم کلام کب سے ہے

احمد ندیم قاسمی Ahmad Nadeem Qasmi


شعوُر میں، کبھی احساس میں بساؤں اُسے
مگر مَیں چار طرف بے حجاب پاؤں اُسے

اگرچہ فرطِ حیا سے نظر نہ آؤں اُسے
وہ رُوٹھ جائے تو سو طرح سے مناؤں اُسے

طویل ہجر کا یہ جبر ہے، کہ سوچتا ہوں
جو دل میں بستا ہے، اب ہاتھ بھی لگاؤں اُسے

اُسے بلا کے مِلا عُمر بھر کا سناّٹا
مگر یہ شوق، کہ اِک بار پھر بلاؤں اُسے

اندھیری رات میں جب راستہ نہیں مِلتا
مَیں سوچتا ہوں، کہاں جا کے ڈھوُنڈ لاؤں اُسے

ابھی تک اس کا تصوّر تو میرے بس میں ہے
وہ دوست ہے، تو خدا کِس لیے بناؤں اُسے

ندیم ترکِ محبت کو ایک عُمر ہوئی
مَیں اب بھی سوچ رہا ہوں، کہ بُھول جاؤں اُسے

احمد ندیم قاسمی

مظفر وارثی Muzafar warsi


قانون ِ تقاضہ پہ عمـــــــــــــــــل کیوں نہیں ہوتا
جس ہاتھ میں پتھر ہے وہ شل کیوں نہیں ہوتا

بچہ ہے غریبوں کا تو کچھ اس کا بھی حق ہے
کیچڑ میں پلا ہے تو کنــــــــــول کیوں نہیں ہوتا

سلطان و گدا دونوں ہی مٹی کی غذا ہیں
ہر قبر پہ اک تاج محـــــــــل کیوں نہیں ہوتا

سچائی کا اعلان تو کرتی ہیں زبانـــــــــیں
اس پیڑ پہ لیکن کوئی پھل کیوں نہیں ہوتا

کردار سے کیوں بوئے محبــــــت نہیں آتی
یہ ذہر ہے تو خون میں حل کیوں نہیں ہوتا

ٹلتے ہی چلے جاتے ہیں کیوں اپنے ارادے
جو آج نہ ہو کام وہ کل کـــــــــیوں نہیں ہوتا

تخلیق ضرورت کا ادب کیوں نہیں کرتــی
نوحہ بھی مظفر کا غزل کیوں نہیں ہوتا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مظفر وارثی

پروین شاکر Parveen Shakir


پروین شاکر

ا پنی رسوائی تیرے نام کا چرچا دیکھوں
اک ذرا شعر کہوں اور میں کیا کیا دیکھوں

نیند آجائے تو کیا محفلیں پرپا دیکھوں
آنکھ کُل جائے تو تنہائی کا صحرا دیکوں

شام بھی ہو گئی دھندلا گئیں آنکھیں بھی مری
جانے والے میں کب تک تیرا رستہ دیکھوں

سب ضدیں اس کی میں پوری کرو ہر بات سُنو
ایک بچے کی طرح سے اسے ہنستا دیکھوں

مجھ پہ چھا جائے وہ بارش کی خوشبو کی طرح
انگ انگ اپنا اُسی رُت میں مہکتا دیکھوں

تُو میری طرح سے یکتا ہے مگر میرے حبیب
جی میں آتا ہے کوئی اور بھی تجھ سا دیکھوں

میں نے جس لمحے کو پُوجا ہے اسے بس اک بار
خواب بن کر تیری آنکھ میں اُترتا دیکھوں

دیوان ِ غالبؔ سے نعتیہ اشعار کا انتخاب Naat e nabi Mirza Ghalib

دیوان ِ غالبؔ سے نعتیہ اشعار کا انتخاب

1:۔ اس کی امت میں ہوں میں، میرے رہیں کیوں کام بند
واسطے جس شہ ﷺ کے، غالبؔ! گنبدِ بے در کھلا

2:۔کل کیلئے کر آج نہ خست شراب میں
یہ سوءِ ظن ہے ساقیِ کوثرﷺ کے با ب میں

3:۔ یہ کس بہشت شمائل کی آمد آمد ہے!
کہ غیر جلوہء گل ، رہگزر میں خاک نہیں

4:۔ بہت سہی غمِ گیتی، شراب کم کیا ہے
غلامِ ساقیِ کوثرﷺ ہوں، مجھ کو غم کیا ہے

5:۔ پھر جی میں ہے کہ در پہ کسی کے پڑے رہیں
سر زیر بارِ منتِ درباں کیے ہوئے

6:۔ زباں پہ بارِ خدایا! یہ کس کا نام آیا
کہ میرے نطق نے بوسے میری زباں کے لیے

سید واصف علی واصف Wasif Ali Wasif


نعتِ رسولِ مقبول ﷺ

انوار برستے رہتے ہیں، اُس پاک نگر کی راہوں میں
اِک کیف کا عالم ہوتا ہے، طیبہ کی مست ہواؤں میں
اس نامِ محمدﷺ کے صدقے، بگڑی ہوئی قسمت بنتی ہے
اُس کو بھی پناہ مل جاتی ہے، جو ڈُوب چکا ہو گناہوں میں
گیسوئے محمدﷺ کی خُوشبو، اللہ! اللہ! کیا خُوشبو ہے
احساس معطّر ہوتا ہے، واللّیل کی مہکی چھاؤں میں
وہ بانئ دِینِ مُبین بھی ہے، حٰم بھی ہے، یٰسین بھی ہے
مسکینوں میں مسکین بھی ہے، سلطانِ زمانہ شاہوں میں
سب جلوے ہیں اس صورت کے، وہ صورت ہی وجہہ اللہ ہے
اللہ نظر آ جاتا ہے، وہ صورت جب ہو نگاہوں میں
اللہ کی رحمت کے جلوے، اس وقت میسّر ہوتے ہیں
سجدے میں ہوں جب آنکھیں پُرنم اور نامِ محمدﷺ آہوں میں
اُس ناطقِ قرآں کی مِدحت، انسان کے بس کی بات نہیں
ممدوحِ خدا ہیں وہ واصف! صد شکر کہ ہم ہیں گداؤں میں
سید واصف علی واصف


علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ Allana Iqbal