اپنی پسند کی شاعری تلاش کریں

بدھ، 2 ستمبر، 2026

دونوں جہان تیری محبت میں وار کے ۔ فیض احمد فیض کی غزل شاعری

دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے
وہ جا رہا ہے کوئی شب غم گزار کے

ویراں ہے مے کدہ خم و ساغر اداس ہیں
تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے

اک فرصت گناہ ملی وہ بھی چار دن
دیکھے ہیں ہم نے حوصلے پروردگار کے

دنیا نے تیری یاد سے بیگانہ کر دیا
تجھ سے بھی دل فریب ہیں غم روزگار کے
بھولے سے مسکرا تو دیے تھے وہ آج فیض
مت پوچھ ولولے دل ناکردہ کار کے


 

ہفتہ، 29 اگست، 2026

شکن جب سے دیکھی ہے ان کی جبیں پر ۔ حسرت موہانی کی غزل شاعری

شکن جب سے دیکھی ہے ان کی جبیں پر

عجب صدمہ ہے جان اندوہ گیں پر


نہ چھوٹے گی اب دخت زر ہم سے ساقی

کریں گے عمل تیری رائے زریں پر


یہ جانیں ہیں عشاق کی یا ہے افشاں

پڑی ہے جو اس گیسوئے عنبریں پر


عجب اس کی خوشبو ہے کچھ روح پرور

وہ کوشش جو تھی اس تن نازنیں پر

کچھ آئی تو ہے ترک مے پر طبیعت

نہ مچلے جو رنگینیٔ ساتگیں پر


نہ کر ناصحا ضبط غم کی نصیحت

کہ ہے صبر دشوار جان حزیں پر


بہت ہم نے ڈھونڈا مگر مثل تیرا

نہ پایا کہیں اور روئے زمیں پر


مرے گریۂ خوں کی سب لالہ کاری

نمودار ہے دامن آستیں پر


ہوئی اس میں اک گرمیٔ شوق پیدا

پڑی جو نظر اس رخ آتشیں پر


تماشائے خوباں سے اتنا تغافل

صد افسوس اس زہد خلوت نشیں پر


نثار اس پہ حسرت مری جان شیریں

تمسم جو ہے اس لب شکریں پر

 

جمعرات، 13 اگست، 2026

بے چین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنا ۔ منیر نیازی کی غزل شاعری

 

Munir Niazi Poetry, Munir Niazi Sher, shayari


بے چین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنا

اک آگ سی جذبوں کی دہکائے ہوئے رہنا


چھلکائے ہوئے چلنا خوشبو لب لعلیں کی

اک باغ سا ساتھ اپنے مہکائے ہوئے رہنا


اس حسن کا شیوہ ہے جب عشق نظر آئے

پردے میں چلے جانا شرمائے ہوئے رہنا


اک شام سی کر رکھنا کاجل کے کرشمے سے

اک چاند سا آنکھوں میں چمکائے ہوئے رہنا


عادت ہی بنا لی ہے تم نے تو منیر اپنی

جس شہر میں بھی رہنا اکتائے ہوئے رہنا


بدھ، 12 اگست، 2026

آنکھوں میں کوئی خواب اُترنے نہیں دیتا ۔ محسن نقوی کی غزل شاعری

آنکھوں میں کوئی خواب اُترنے نہیں دیتا

یہ دل کہ مجھے چین سے مرنے نہیں دیتا


بچھڑے تو عجب پیار جتاتا ہے خطوں میں

مل جائے تو پھر حد سے گزرنے نہیں دیتا


وہ شخص خزاں رُت میں محتاط رہے کتنا

سوکھے ہوئے پھولوں کو بکھرنے نہیں دیتا


اِک روز تیری پیاس خریدے گا وہ گبرو

پانی تجھے پنگھٹ سے جو بھرنے نہیں دیتا


وہ دل میں تبسم کی کرن گھولنے والا

روٹھے تو رُوتوں کو بھی سنورنے نہیں دیتا


میں اُس کو مناؤں کہ غمِ دہر سے اُلجھوں

محسن وہ کوئی کام بھی کرنے نہیں دیتا 

خرد نے مجھ کو عطا کی نظر حکیمانہ ۔ کلام اقبال ۔ علامہ اقبال کی شاعری

خرد نے مجھ کو عطا کی نظر حکیمانہ

سکھائی عشق نے مجھ کو حدیث رندانہ


نہ بادہ ہے نہ صراحی نہ دور پیمانہ

فقط نگاہ سے رنگیں ہے بزم جانانہ


مری نوائے پریشاں کو شاعری نہ سمجھ

کہ میں ہوں محرم راز درون مے خانہ


کلی کو دیکھ کہ ہے تشنۂ نسیم سحر

اسی میں ہے مرے دل کا تمام افسانہ


کوئی بتائے مجھے یہ غیاب ہے کہ حضور

سب آشنا ہیں یہاں ایک میں ہوں بیگانہ


فرنگ میں کوئی دن اور بھی ٹھہر جاؤں

مرے جنوں کو سنبھالے اگر یہ ویرانہ


مقام عقل سے آساں گزر گیا اقبال

مقام شوق میں کھویا گیا وہ فرزانہ

 

پیر، 10 اگست، 2026

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے ۔ میر تقی میر کی غزل ۔ اردو شاعری

 پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے

جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے


لگنے نہ دے بس ہو تو اس کے گوہر گوش کو بالے تک

اس کو فلک چشم مہ و خور کی پتلی کا تارا جانے ہے


آگے اس متکبر کے ہم خدا خدا کیا کرتے ہیں

کب موجود خدا کو وہ مغرور خود آرا جانے ہے


عاشق سا تو سادہ کوئی اور نہ ہوگا دنیا میں

جی کے زیاں کو عشق میں اس کے اپنا وارا جانے ہے


چارہ گری بیماری دل کی رسم شہر حسن نہیں

ورنہ دلبر ناداں بھی اس درد کا چارہ جانے ہے


کیا ہی شکار فریبی پر مغرور ہے وہ صیاد بچہ

طائر اڑتے ہوا میں سارے اپنے اساریٰ جانے ہے


مہر و وفا و لطف و عنایت ایک سے واقف ان میں نہیں

اور تو سب کچھ طنز و کنایہ رمز و اشارہ جانے ہے


کیا کیا فتنے سر پر اس کے لاتا ہے معشوق اپنا

جس بے دل بے تاب و تواں کو عشق کا مارا جانے ہے


رخنوں سے دیوار چمن کے منہ کو لے ہے چھپا یعنی

ان سوراخوں کے ٹک رہنے کو سو کا نظارہ جانے ہے


تشنۂ خوں ہے اپنا کتنا میرؔ بھی ناداں تلخی کش

دم دار آب تیغ کو اس کے آب گوارا جانے ہے


میر تقی میر


اتوار، 9 اگست، 2026

اوجھل سہی نِگاہ سے ڈوبا نہیں ہوں میں ۔ امجد اسلام امجد کی غزل ۔ اردو شاعری

 اوجھل سہی نِگاہ سے ڈوبا نہیں ہوں میں

اے رات ہوشیار کہ ہارا نہیں ہوں میں


دَرپیش صبح و شام یہی کَشمکش ہے اب

اُس کا بَنوں میں کیسے کہ اپنا نہیں ہوں میں


مجھ کو فرشتہ ہونے کا دعویٰ نہیں مگر

جِتنا بُرا سمجھتے ہو اُتنا نہیں ہوں میں


اِس طرح پھیر پھیر کہ باتیں نہ کیجیئے

لہجے کا رُخ سمجھتا ہوں بچہ نہیں ہوں میں


مُمکن نہیں ہے مجھ سے یہ طرزِ مُنافقت

دُنیا تیرے مزاج کا بَندہ نہیں ہوں میں


امجدؔ تھی بھیڑ ایسی کہ چلتے چلے گئے

گِرنے کا ایسا خوف تھا ٹِھہرا نہیں ہوں میں


امجد اسلام امجد کی غزل