اپنی پسند کی شاعری تلاش کریں

جمعرات، 10 ستمبر، 2026

لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں۔ بہادر شاہ ظفر کی غزل شاعری

لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں

کس کی بنی ہے عالم ناپائیدار میں


ان حسرتوں سے کہہ دو کہیں اور جا بسیں

اتنی جگہ کہاں ہے دل داغدار میں


کانٹوں کو مت نکال چمن سے او باغباں

یہ بھی گلوں کے ساتھ پلے ہیں بہار میں


بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ

قسمت میں قید لکھی تھی فصل بہار میں


کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے

دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں

 

بہادر شاہ ظفر کی بہترین غزلیں


لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں

بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں تو کس سے کہوں

یا مجھے افسر شاہا نہ بنایا ہوتا

کیونکر نہ خاکسار رہیں اہل کیں سے دور


بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی

جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی


لے گیا چھین کے کون آج ترا صبر و قرار

بے قراری تجھے اے دل کبھی ایسی تو نہ تھی


اس کی آنکھوں نے خدا جانے کیا کیا جادو

کہ طبیعت مری مائل کبھی ایسی تو نہ تھی


عکس رخسار نے کس کے ہے تجھے چمکایا

تاب تجھ میں مہ کامل کبھی ایسی تو نہ تھی


اب کی جو راہ محبت میں اٹھائی تکلیف

سخت ہوتی ہمیں منزل کبھی ایسی تو نہ تھی


پائے کوباں کوئی زنداں میں نیا ہے مجنوں

آتی آواز سلاسل کبھی ایسی تو نہ تھی


نگہ یار کو اب کیوں ہے تغافل اے دل

وہ ترے حال سے غافل کبھی ایسی تو نہ تھی


چشم قاتل مری دشمن تھی ہمیشہ لیکن

جیسی اب ہو گئی قاتل کبھی ایسی تو نہ تھی


کیا سبب تو جو بگڑتا ہے ظفر سے ہر بار

خو تری حور شمائل کبھی ایسی تو نہ تھی

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


بدھ، 2 ستمبر، 2026

دونوں جہان تیری محبت میں وار کے ۔ فیض احمد فیض کی غزل شاعری

دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے
وہ جا رہا ہے کوئی شب غم گزار کے

ویراں ہے مے کدہ خم و ساغر اداس ہیں
تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے

اک فرصت گناہ ملی وہ بھی چار دن
دیکھے ہیں ہم نے حوصلے پروردگار کے

دنیا نے تیری یاد سے بیگانہ کر دیا
تجھ سے بھی دل فریب ہیں غم روزگار کے
بھولے سے مسکرا تو دیے تھے وہ آج فیض
مت پوچھ ولولے دل ناکردہ کار کے


 

ہفتہ، 29 اگست، 2026

شکن جب سے دیکھی ہے ان کی جبیں پر ۔ حسرت موہانی کی غزل شاعری

شکن جب سے دیکھی ہے ان کی جبیں پر

عجب صدمہ ہے جان اندوہ گیں پر


نہ چھوٹے گی اب دخت زر ہم سے ساقی

کریں گے عمل تیری رائے زریں پر


یہ جانیں ہیں عشاق کی یا ہے افشاں

پڑی ہے جو اس گیسوئے عنبریں پر


عجب اس کی خوشبو ہے کچھ روح پرور

وہ کوشش جو تھی اس تن نازنیں پر

کچھ آئی تو ہے ترک مے پر طبیعت

نہ مچلے جو رنگینیٔ ساتگیں پر


نہ کر ناصحا ضبط غم کی نصیحت

کہ ہے صبر دشوار جان حزیں پر


بہت ہم نے ڈھونڈا مگر مثل تیرا

نہ پایا کہیں اور روئے زمیں پر


مرے گریۂ خوں کی سب لالہ کاری

نمودار ہے دامن آستیں پر


ہوئی اس میں اک گرمیٔ شوق پیدا

پڑی جو نظر اس رخ آتشیں پر


تماشائے خوباں سے اتنا تغافل

صد افسوس اس زہد خلوت نشیں پر


نثار اس پہ حسرت مری جان شیریں

تمسم جو ہے اس لب شکریں پر

 

جمعرات، 13 اگست، 2026

بے چین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنا ۔ منیر نیازی کی غزل شاعری

 

Munir Niazi Poetry, Munir Niazi Sher, shayari


بے چین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنا

اک آگ سی جذبوں کی دہکائے ہوئے رہنا


چھلکائے ہوئے چلنا خوشبو لب لعلیں کی

اک باغ سا ساتھ اپنے مہکائے ہوئے رہنا


اس حسن کا شیوہ ہے جب عشق نظر آئے

پردے میں چلے جانا شرمائے ہوئے رہنا


اک شام سی کر رکھنا کاجل کے کرشمے سے

اک چاند سا آنکھوں میں چمکائے ہوئے رہنا


عادت ہی بنا لی ہے تم نے تو منیر اپنی

جس شہر میں بھی رہنا اکتائے ہوئے رہنا


بدھ، 12 اگست، 2026

آنکھوں میں کوئی خواب اُترنے نہیں دیتا ۔ محسن نقوی کی غزل شاعری

آنکھوں میں کوئی خواب اُترنے نہیں دیتا

یہ دل کہ مجھے چین سے مرنے نہیں دیتا


بچھڑے تو عجب پیار جتاتا ہے خطوں میں

مل جائے تو پھر حد سے گزرنے نہیں دیتا


وہ شخص خزاں رُت میں محتاط رہے کتنا

سوکھے ہوئے پھولوں کو بکھرنے نہیں دیتا


اِک روز تیری پیاس خریدے گا وہ گبرو

پانی تجھے پنگھٹ سے جو بھرنے نہیں دیتا


وہ دل میں تبسم کی کرن گھولنے والا

روٹھے تو رُوتوں کو بھی سنورنے نہیں دیتا


میں اُس کو مناؤں کہ غمِ دہر سے اُلجھوں

محسن وہ کوئی کام بھی کرنے نہیں دیتا 

خرد نے مجھ کو عطا کی نظر حکیمانہ ۔ کلام اقبال ۔ علامہ اقبال کی شاعری

خرد نے مجھ کو عطا کی نظر حکیمانہ

سکھائی عشق نے مجھ کو حدیث رندانہ


نہ بادہ ہے نہ صراحی نہ دور پیمانہ

فقط نگاہ سے رنگیں ہے بزم جانانہ


مری نوائے پریشاں کو شاعری نہ سمجھ

کہ میں ہوں محرم راز درون مے خانہ


کلی کو دیکھ کہ ہے تشنۂ نسیم سحر

اسی میں ہے مرے دل کا تمام افسانہ


کوئی بتائے مجھے یہ غیاب ہے کہ حضور

سب آشنا ہیں یہاں ایک میں ہوں بیگانہ


فرنگ میں کوئی دن اور بھی ٹھہر جاؤں

مرے جنوں کو سنبھالے اگر یہ ویرانہ


مقام عقل سے آساں گزر گیا اقبال

مقام شوق میں کھویا گیا وہ فرزانہ